Share this link via
Personality Websites!
فضیلتیں ہمیں نصیب ہو سکتی ہیں، آئیے! سنتے ہیں تاکہ ہمارا ذِہن بنے اور ہم اِستقامت کے ساتھ یہ نیک کام کرتے رہیں۔ پہلے حدیثِ پاک میں بیان ہونے والا ایک حسین واقعہ سنیے!
دِینی اجتماع میں فرشتے آتے ہیں
صحابئ رسول حضرت عبد اللہ بن عبّاس رَضِیَ اللہ عنہما فرماتے ہیں:ایک دِن صحابئ رسول حضرت عبد اللہ بن رَوَاحہ رَضِیَ اللہ عنہ بیان فرما رہے تھے، صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم سُن رہے تھے، اتنے میں رسولِ ذیشان، مکی مَدَنی سلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم تشریف لے آئے۔
اللہ اکبر! اس باکمال دِینی اجتماع کی کیا ہی شان ہو گی...!! اَوَّل تو اجتماع صحابہ کا تھا، پِھر نبیوں کے امام صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم بھی تشریف لے آئے۔ سُبْحٰنَ اللہ!
چہرے پہ خُوشی چھا جاتی ہے، آنکھوں میں سُرُور آ جاتا ہے
محفل میں تمہارے آنے سے ہر چیز پہ نُور آ جاتا ہے
حضرت عبد اللہ بن رَوَاحہ رَضِیَ اللہ عنہ نے جب آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کو دیکھا تو بیان رَوک کر خاموش ہو گئے۔ محبوبِ ذیشان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: عبد اللہ! بیان جاری رکھو...!! عرض کیا: یَارَسُوْلَ اللہ ! اَنْتَ اَحَقُّ مِنِّی یعنی یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! آپ ہی حق دار ہیں کہ بیان فرمائیں (آپ کی موجودگی میں بیان کرنے والا میں کون ہوتا ہوں!) ۔ آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: تم ہی تو وہ گِرَوہ ہو،جن کے ساتھ خُود کو مانُوس کرنے کا مجھے حکم دیا گیا ہے۔ پِھر آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے یہ آیتِ کریمہ تِلاوت کی:
وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ (پارہ:15، سورۂ کہف:28)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: اور اپنی جان کو ان لوگوں کے ساتھ مانوس رکھ جو صبح و شام اپنے ربّ کو پکارتے ہیں۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami