Share this link via
Personality Websites!
فرمانِ آخری نبی، رسولِ ہاشمی صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم: قیامت کے دن تم کو تمہارے اور تمہارے باپوں کے نام سے پُکارا جائے گالہٰذا اپنے اچھے نام رکھو۔([1])
اے عاشقانِ رسول !مفتی امجد علی اعظمی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:بچے کا اچھا نام رکھا جائے بہت سےلوگوں کے ایسے نام ہیں جن کے کچھ معنیٰ نہیں یا ان کے بُرے معنیٰ ہیں ایسے ناموں سے پرہیز کریں*انبیائےکرام علیہمُ السَّلَام اور صحابہ و تابعین رَضِیَ اللہ عنہم کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، اُمّید ہے کہ ان کی بَرکت بچے کے شاملِ حال ہو*بچہ زندہ پیدا ہوا یا مُردہ اس کا بدن مکمل ہوا ہو یا مکمل نہ ہوا، بہرحال اس کا نام رکھا جائے *حدیث پاک میں ہے: کچّے بچّے(یعنی جس کاکوئی عُضو بن جائے یا 4ماہ کا ہواس) کا نام رکھو کہ اللہ پاک اس کے ذریعے تمہارے عمل کے ترازو کو بھاری کرے گا *جبریل یا میکائیل وغیرہ نام نہ رکھئے *یٰسین یا طٰہٰ نام رکھنا منع ہے*محمد یٰسین نام بھی مت رکھئے، ہاں چاہیں تو غُلام یٰسین اور غلام طٰہٰ رکھ لیجئے*جو نام بُرے ہوں ان کو بدل کر اچھا نام رکھنا چاہئےکہ اپنی امت سے پیار کرنے والے پیارے پیارے آقا صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم بُرے نام کو اچھے نام سے بدل دیتے تھے۔ایک خاتون کا نام عاصِیَہ(یعنی گنہگار)تھا، رسولِ کریم صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے اس کے نام کو بدل کر جَمِیلہ رکھا۔(نوٹ: ایک نام آسیہ بھی رکھا جاتاہے ، یہ اچھا نام ہے، رکھنے میں کوئی حرج نہیں) * غُلام رسول، غُلام صدیق، غُلام حُسین، غُلام غوث، غُلام رضا نام رکھنا جائز ہے*ایسے نام رکھنا جائز نہیں، جو غیر مسلموں کے لیے مخصوص ہوں۔ ([2])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami