Share this link via
Personality Websites!
حدیثِ پاک میں جنّت کی کیاریاں فرمایا گیا([1])*اللہ پاک مَجْلِسِ ذِکْر میں آنے والوں پر فخر فرماتا([2]) * اور فرشتوں کے سامنے ان کا ذِکْرِ خیر فرماتا ہے ۔([3])
یہ وہ بَرَکَات تھیں جو اَحَادیث میں بیان ہوئیں، اس کے عِلاوہ *دِینی اجتماعات کی بَرَکَت سے اللہ پاک کا قُرب ملتا ہے *غفلت دُور ہوتی ہے *نیکی اور بھلائی پر ایک دوسرے کی مدد کرنا نصیب ہوتا ہے *دِینی اجتماعات کی بَرَکَت سے ایمان مضبوط ہوتا ہے *دونوں جہان کی بھلائیاں ملتی ہیں *مُعَاشرے کی اِصْلاح ہوتی ہے *آپس میں محبّت، پیار،اِتّفاق،اِتّحاد کی دولت نصیب ہوتی ہے *اس کی بَرَکَت سے اَخْلاق سنورتے ہیں *کردار میں بہتری آتی ہے *عقل بڑھتی ہے *سوشل لائِف یعنی معاشرے میں رہنے اور زندگی گزارنے کا تجربہ(Experience) بڑھتا ہے *مختلف سروے رپورٹس کے مطابِق مذہبی لوگ (Religious People) (جو جمعہ جماعت اور دیگر دِینی اجتماعات میں شِرکَت کرتے رہتے ہیں، یہ) غیر مذہبی لوگوں کی نسبت نفسیاتی مسائِل(Psychological Problems) کا شکار کم ہوتے ہیں *ڈِپریشن جو آج کے دور کا ایک بڑا مسئلہ ہے، ہائی بلڈ پریشر،گردوں کے امراض(Kidney Diseases) اور ہارٹ اٹیک وغیرہ کی ایک بڑی وجہ ڈِپریشن ہے،ایک سروے رپورٹ کے مطابِق مذہبی لوگ (جو اجتماعات میں شِرکَت کرتے ہیں، یہ ) ڈِپریشن سے بہت حد تک محفوظ رہتے ہیں *چونکہ یہ لوگ دوسروں کے دُکھ دَرْد سے واقِف ہوتے رہتے ہیں، لہٰذا ان میں نیکی، بھلائی، خیر خواہی اور خِدْمتِ خلق(Social Welfare) وغیرہ کے جذبات زیادہ پائے جاتے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami