Share this link via
Personality Websites!
سُبْحٰنَ اللہ! روایت کا بقیہ حِصَّہ بھی عرض کرتا ہوں، پہلے اس بات کا ذرا لُطْف لیجیے! فرشتے دوسرے فرشتوں کو پُکارتے ہیں، پتا چلا؛ نیک اِجْتماعات میں اکیلے ہی آجانا فرشتوں کا طریقہ نہیں ہے، یہ اپنے ساتھیوں کو پُکارتے، انہیں ساتھ لے کر آتے ہیں۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اکیلے ہی نہ آجایا کریں، فرشتوں کی پیروی کرتے ہوئے دوسروں کو بھی ساتھ لایا کریں۔
دوسری بات: فرشتے ایک دوسرے کو پُکارتے ہیں: ہَلُمُّوْا اِلیٰ حَاجَتِکُمْ آجاؤ...!! تمہارا مطلوب یہاں ہے۔ پتا چلا؛ ان فرشتوں کا مطلب، مقصد، چاہت، خواہش صِرْف ایک ہی ہوتی ہے کہ کہیں نیک اِجْتماع مِل جائے، ہم اس میں شرکت کر لیں، اس مقصد کے لیے فرشتے گلی گلی گھومتے ہیں، باقاعِدہ رِوایت کے لفظ ہیں: یَطُوْفُوْنَ فِی الطُّرُقِ فرشتے (نیک اجتماعات کی تلاش میں) گلی گلی چکّر لگاتے رہتے ہیں۔
اس سے پتا چلا؛ نیک اِجتماعات میں شرکت کے لیے بےچین رہنا چاہیے، بعض لوگوں کا ذِہن ہوتا ہے کہ جتنی دَیْر اجتماع میں شرکت کروں گا، اس سے بہتر ہے کہ اتنی دیر نوافِل پڑھ لُوں، اتنی دیر تِلاوت کر لُوں، دِینی مُطالَعَہ کر لُوں۔ بیشک نفل پڑھنا بھی ثواب کا کام ہے، تِلاوت بھی بہت فضیلت والی نیکی ہے، دِینی مُطالَعَہ کا بھی کوئی جواب نہیں ہے، البتہ! نیک اِجْتماعات میں شرکت کی جو فضیلت ہے، اس کی الگ ہی شان ہے، آپ غور فرمائیے! اللہ پاک کے فرشتے ہیں، نُورانی مَخلُوق ہیں، گُنَاہوں سے بالکل پاک ہیں، اس کے باوُجُود اِن
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami