Share this link via
Personality Websites!
حال (Situation)ہے، ہم نے پاؤں میں پہننے کے لیے جوتا خریدنا ہو تو پُوری مارکیٹ گھومتے ہیں، لوگ ایک جوتا پسند کرنے کے لیے کئی کئی گھنٹے لگا دیتے ہیں، تب جا کر کوئی جوتا پسند آتا ہے اور دوست...!! جسے دِل میں جگہ دینی ہے، جس کے ساتھ اُٹھنا ہے، بیٹھنا ہے، اس کو اپنی زِندگی میں شامِل کرنا ہے، اس کے اَخْلاق ہم پر اَثَر کریں گے، اس کا کردار ہمارے کردار پر اَثَر انداز ہو گا، اس بارے میں کوئی غور و فِکْر نہیں، کوئی جانچ پڑتال نہیں، بَس! آپس میں 4 باتیں ہوئیں اور دوست بن گیا۔ ایک آدھ گھنٹہ بس میں اکٹھے سَفَر(Travel)کیا، بات چیت ہوئی، اپنا نمبر دیا، اُس کا نمبر لیا اور دوستی ہو گئی بلکہ اب تو جدید دور ہے، آن لائن دوستیاں(Online Friendships) ہوتی ہیں، نہ سامنے والے کو دیکھا، نہ جانچا، یہ تک مَعْلُوم نہیں ہوتا کہ میں جس سے دوستی کر رہا ہوں، وہ ہے کون، بَس فیس بُک(Facebook)، انسٹا گرام(Instagram) وغیرہ پر 4باتیں ہوئیں، فرینڈ ریکویسٹ (Friend Request) آئی، ہم نے قبول (Accept) کی اور دوستی شروع ہو گئی۔
اللہ پاک ہمارے حال پر رحم فرمائے! علَّامہ شعرانی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: دوست بنانے کے لیے عقلمند ہونا ضَروری ہے تاکہ آدمی جان سکے کہ کون دوستی کے لائق ہے کون نہیں ہے۔ مزید فرماتے ہیں: بےوقوف لوگ ہر ایک کو دوست بنا لیتے ہیں، پھر 4دِن بعد لڑائی ہوتی ہے اور وہی دوست دُشمن ہو جاتا ہے۔ عُلما فرماتے ہیں: عقل مند وہ ہے جو پہلے تجربہ (Experience)کرے، پھر دوست بنائے۔([1])
غیر مسلم کی دوستی کا بھیانک انجام
ایک شخص تھا: عُقْبَہ بن اَبی مُعِیْط۔ یہ مکہ مکرمہ کا رہنے والا غیر مسلم تھا۔ پیارے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami