Share this link via
Personality Websites!
آلِہٖ وَ سَلَّم دِین صِرْف سکھاتے نہیں تھے، اس کا پریکٹیکل(Practical) بھی کرواتے تھے۔
قربان جائیے! جن صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان نے اس انداز سے قرآن سیکھا ہو، ان کی قرآن فہمی کا عالَم کیا ہو گا...!! حدیثِ پاک سنیے! صحابئ رسول حضرتِ اَنَس بن مالِک رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے سُنا؛ ایک دِن پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم حضرت علیُ المرتضیٰ رَضِیَ اللہ عنہ سے فرما رہے تھے:
یَا عَلِیُّ! اِسْتَکْثِرْ مِنَ الْمَعَارِفِ مِنَ الْمُؤمِنِیْنَ
ترجمہ: اے علی! مسلمانوں کے ساتھ جان پہچان زیادہ بناؤ!
کیوں؟ اِس میں حکمت کیا ہے؟ فرمایا:
فَکَمْ مِنْ مَّعْرِفَۃٍ فِی الدُّنْیَا بَرَکَةٌ فِی الْآخِرَۃِ
ترجمہ: کیونکہ دُنیا میں کتنی ہی جان پہچان ایسی ہوتی ہیں جو آخرت میں بَرَکت کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔
حضرت اَنَس بن مالِک رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: حکم پا کر حضرت مولیٰ علی رَضِیَ اللہ عنہ تشریف لے گئے۔ اب آپ کا انداز یہ تھا کہ جس سے بھی مُلاقات ہوتی، اسے آخرت کے لیے دوست بنا لیتے۔ کچھ دِن یونہی معاملہ چلتا رہا، مولیٰ علی رَضِیَ اللہ عنہ دوست پر دوست بناتے چلے گئے۔ پِھر ایک دِن محبوبِ کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا:
مَا فَعَلْتَ فِیْمَا اَمَرْتُکَ
ترجمہ: اے علی! جو میں نے حکم دیا تھا، اس بارے میں کیا کِیَا؟
عرض کیا: حُضُور...!! میں نے بہت سارے دوست بنا لیے ہیں۔ فرمایا:
اِذْہَبْ فَابْلُ اَخْبَارَہُمْ
ترجمہ: یعنی اچھا اب جاؤ! اور اپنے دوستوں کے معاملات کی جانچ کرو!
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami