Share this link via
Personality Websites!
بات سننے، سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق نصیب فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ۔
ہم نے شروع میں آیتِ کریمہ سننے کی سعادت حاصِل کی، اللہ پاک فرماتا ہے:
اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَىٕذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَؕ۠(۶۷) (پارہ:25، سورۂ زخرف:67)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: اس دن گہرے دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے سوائے پرہیزگاروں کے۔
اِس آیتِ کریمہ میں دوستی کی 2 قسمیں اِرْشاد ہوئی ہیں: (1):ایک دوستی وہ ہے جو روزِ قیامت دُشمنی میں بدل جائے گی۔ یہ عموماً گُنَاہوں بھری دوستیاں(Friendships) ہوتی ہیں، اسی طرح عموماً دُنیا داری پر مبنی جو دوستیاں ہوتی ہیں، جو نیکی کی بنیاد پر قائِم نہیں ہوتیں، وہ بھی روزِ قیامت باقی نہیں رہیں گی، بلکہ قیامت تَو بہت دُور کی بات ہے، عموماً ایسی دوستیاں قبر کے گڑھے تک ساتھ نہیں دیتیں۔ ایک پنجابی شاعِر نے کیا خُوب کہا ہے:
جَیْہڑے کَہْندِے سِی مَرَاں گے نَال تَیْرِے
اَجْ اَوْنَہَاں وِی بَازِیَاں ہَارِیاں نَیں
جَیْہڑے تَرَسْدَے سَنْ دِیْد نُوْں دِنَے رَاتِیں
اَجْ اَوْنَہَاں بھی بَارِیَاں مَارِیَاں نَیْں
مَفْہُوم : وہ جگری دوست، سجن، یار جو کہتے تھے کہ ہمارا مرنا جینا ایک ساتھ ہے، جب موت آئی، وہ جگری دوست بھی بازی ہار گئے، جو دِن رات ہمیں دیکھنے کو ترستے تھے، جیسے ہی قبر
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami