Share this link via
Personality Websites!
اسے پھر سے جہنّم کی طرف دھکیل دیا۔ اب ہم اپنے متعلق غور کریں، آہ! اگر آج ہم نے بُرے لوگوں کو دوست بنایا*جو نمازیں نہیں پڑھتے *نیک کام نہیں کرتے *اللہ و رسول کی نافرمانی کرتے ہیں *شراب پیتے ہیں*جُوا کھیلتے ہیں *سُودی لین دَین کرتے ہیں*بھنگ چرس وغیرہ کا نشہ کرتے ہیں*لڑائی جھگڑے کرنے والے *فیشن پرستی میں آخرت کو بُھولنے والے *سرکش و نافرمان ہیں *ہم نے اگر ایسوں کو دوست بنایا تو کہیں کل روزِ قیامت جب سب تعلقات ٹوٹ جائیں گے *ماں بیٹے سے بھاگے گی *باپ اکلوتے کو چھوڑے گا *بھائی بھائی سے دُور جائے گا، اُس وقت دوست احباب کوئی کسی کا پُرسانِ حال نہ ہو گا *آہ! قیامت کے اُس ہولناک دِن اللہ نہ کرے ہم بھی کہیں حسرت سے یہی نہ پُکارتے رہ جائیں کہ
یٰوَیْلَتٰى لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا(۲۸) (پارہ:19،سورۂ فرقان:28)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: ہائے میری بربادی! اے کاش کہ میں نے فُلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔
اس لیے آج موقع ہے، ہم اچھے دوست ہی بنائیں، صِرْف اچھے، نیک نمازی لوگوں کی صُحْبت ہی اختیار کریں۔
صُحْبتِ صَالِح تُرَا صَالِح کُنَدْ صُحْبتِ طَالِح تُرَا طَالِح کُنَدْ
ترجمہ: یعنی اچھے کی صُحْبت تجھے اچھا بنادے گی ، بُرے کی صُحْبت تجھے بُرا بنادے گی۔
حضرت اُبومُوسیٰ اَشْعَرِی رَضِیَ اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولِ ذیشان، مکی مَدَنی سُلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا:
اِنَّمَا مَثلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ وَجَلِيسِ السُّوءِ، كَحَامِلِ الْمِسْكِ، وَنَافِخِ الْكِيرِ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami