Share this link via
Personality Websites!
اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا(۲۷) یٰوَیْلَتٰى لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا(۲۸) لَقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَآءَنِیْؕ-وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا(۲۹) (پارہ:19،سورۂ فرقان:27 تا 29)
چبا ئے گا، کہے گا : اے کاش کہ میں نے رسول کے ساتھ راستہ اختیار کیا ہوتا، ہائے میری بربادی! اے کاش کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا، بیشک اس نے میرے پاس نصیحت آجانے کے بعد مجھے اس سے بہکا دیا اور شیطان انسان کو مصیبت کے وقت بے مدد چھوڑ دینے والا ہے۔
انسان کو جب بہت حَسْرت اور شرمندگی ہوتی ہے یا بہت زیادہ غُصَّہ آتا ہے تو بعض لوگ دانت پیستے ہیں، بعض حَسْرت میں اپنے ہی ہاتھوں پر کاٹنے لگتے ہیں، روزِ قیامت عُقْبَہ بن ابِی مُعِیْط کی بھی یہی حالت ہو گی، یہ حَسْرت سے اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا۔([1])اور کہے گا: اے کاش! میں نے رسولِ اکرم، نُورِ مُجَسَّمْ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کا ساتھ اپنایا ہوتا، کاش! اِن کی پیروی میں جنّت و نجات کا راستہ اِختیار کیا ہوتا! ہائے میری بربادی...!! کاش! میں نے فُلاں(یعنی اُبَیْ بن خَلف) کو دوست نہ بنایا ہوتا۔([2])
اے عاشقانِ رسول! غور فرمائیے! عُقْبَہ بن اَبِی مُعِیْط رسولِ اکرم، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم کی خِدْمت میں بیٹھا کرتا تھا، آپ صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم کی ہدایت بھری باتیں سُنا کرتا تھا، اس نے آپ صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم کے کہنے پر کلمہ بھی پڑھ لیا تھا مگر افسوس! ایک کافِر کی دوستی نے اسے بہکا دیا، یہ جنّت کے رستے کا مُسَافِر بن ہی چکا تھا لیکن غلط دوستی نے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami