Share this link via
Personality Websites!
آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی خِدْمت میں حاضِر ہوتا، آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی نُور بھری باتیں سُنتا، اِن پر تعجب بھی کرتا تھا، البتہ اُس نے کلمہ نہیں پڑھا تھا، ایک دِن اُس نے پیارے نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کو اپنے گھر دعوت پر بُلایا، آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم تشریف لے گئے، کھانا حاضِر کیا گیا۔ رسولِ رحمت، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: جب تک تم کلمہ پڑھ کر مسلمان نہیں ہو جاتے، میں تمہارے گھر کا کھانا ہر گز نہیں کھاؤں گا۔ چنانچہ عُقْبَہ بن ابی مُعِیْط نے بظاہِر کلمہ پڑھ لیا، سرکارِ عالی وقار، مکی مَدَنی تاجدار صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے کھانا تناوُل فرمایا اور واپس تشریف لے آئے۔
عُقْبَہ بن ابی مُعِیْط کی اُبَیْ بن خَلف کے ساتھ دوستی تھی، اُبَیْ بن خَلف مکہ مکرمہ کا بڑا ظالِم کافِر تھا، جب اسے پتا چلا کہ عُقْبَہ نے رسولِ اکرم، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی اپنے گھر دعوت کی اور کلمہ بھی پڑھ لیا ہے تو اس غیر مسلم کی رگ پھڑک اُٹھی، اُس نے عُقْبَہ کو اُکسایا اور کہا: میری تمہارے ساتھ دوستی کی اب ایک ہی صُورت ہے، وہ یہ کہ تم مُحَمَّد صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آؤ! مَعَاذَ اللہ!
اب عُقْبَہ بن ابی مُعِیْط کے سامنے 2 راستے تھے، ایک طرف اس کا دوست تھا، دوسری طرف اللہ پاک کے مَحْبوب نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کا دامنِ اَقْدس اور دوجہاں کی بھلائیاں تھیں مگر اَفْسَوْس! عُقْبَہ بن اَبِی مُعِیْط نے کافِر کی دوستی کو پسند کیا، یہ بدبخت بارگاہِ رسالت میں آیا اَور اس نے سخت گستاخی کی، ([1]) اس پر پارہ: 19، سورۂ فرقان کی یہ آیاتِ کریمہ نازِل ہوئیں:([2])
وَ یَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى یَدَیْهِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: اور جس دن ظالم اپنے ہاتھ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami