Share this link via
Personality Websites!
اس میں ہے کہ بندہ اس کلمے کے تقاضوں کو بھی نبھائے، جنّت ایمان کے ذریعے ملتی ہے مگر دَرَجات کی بلندی ایمان کے کمال اور اس کے تقاضوں پر عَمَل کر کے نصیب ہوتے ہیں۔
ہم اگر غور کریں تو ہم میں سے زیادہ تَر صِرْف اس لئے مسلمان ہیں کیونکہ مسلمانوں کے گھر پیدا ہوئے تھے، یہ بھی اللہ پاک کی بہت بڑی عنایت ہے، اس نے مسلمان گھرانے میں پیدا فرما دیا، بچپن ہی سے کلمہ نصیب ہو گیا۔ غیر مُسْلِم گھرانے میں پیدا ہوتے تو نہ جانے کہاں ذلیل و خوار ہوتے۔ یہ اُس کا کرم ہے۔
مگر سوچنے کی بات ہے، مثال کے طَور پر ایک آدمی ہے، اسے اپنے والِد کی وِراثت سے ایک کروڑ روپیہ ملا، کیا سمجھتے ہیں ؟ وہ اس کروڑ روپے کو تجوری میں رکھ کر آرام سے بیٹھ جائے گا؟ نہیں...!! اُس سے کاروبار کرے گا، اس ایک کروڑ کو دو، تین، چار کروڑ بنانے کی کوشش کرے گا۔ اب غور فرمائیے! ایمان ہمیں وِراثت میں مِلا ہے، کلمہ ہم نے ماں کی گود میں پڑھ لیا تھا اور یہ ایمان ایک کروڑ نہیں بلکہ دُنیا کی ساری دولت سے بڑھ کر دولت ہے مگر ہماری حالت دیکھئے! یہ دولت وِراثت میں مِل گئی تھی، بس ہم اسی پر مطمئن ہیں، اس میں ترقی کی فِکْر ہی نہیں ہے، اسے مزید سے مزید مضبوط کرتے چلے جانے، ایمان کے درجات میں آگے سے آگے بڑھتے جانے کی ہم کوئی فِکْر ہی نہیں کرتے۔
اللہ پاک ہمارے حال پر رحم فرمائے، یہ بھی ہماری ذِمّہ داری ہے، رَبِّ کریم نے فرمایا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا (پارہ:5، النساء:136)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: اے ایمان والو! ایمان رکھو!
یعنی اے ایمان والو! اپنے ایمان کی فِکْر کرو! اسے مزید سے مزید مضبوط کرتے چلے جاؤ!
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami