Share this link via
Personality Websites!
اور روزِ قیامت اُٹھنا نصیب فرمائے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! ہمیں اِیْمان کی دولت نَصیب ہوئی، یہ کَرم تو ہو گیا، یہ ایمان کی دولت ملنے کے بعد ہماری بھی ایک ذِمَّہ داری ہے اور یہ ذِمَّہ داری بھی اللہ پاک ہی نے دی ہے، جی ہاں! قرآنِ کریم میں حکم ہوتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا (پارہ:5، النساء:136)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: اے ایمان والو! ایمان رکھو!
یہاں دیکھئے! خِطاب ایمان والوں کو ہے اور حُکم دِیا جا رہا ہے: ایمان رکھو! حالانکہ وہ پہلے ہی ایمان والے ہیں، پِھر اب ایمان لانے کا کیا مطلب ہے؟ عُلَمائے تفسیر اس کی وضاحت فرماتے ہیں: اِزْدَادُوا فِی الْاِیْمانِ یعنی معنیٰ یہ ہے کہ اے ایمان والو! اپنے ایمان کو مزید مضبوط کرو! ([1])*کلمہ تو پڑھ لیا، اب اس پر اِستقامت کے ساتھ قائِم بھی رہو! * کلمہ تو پڑھ لیا، اب اس کے تقاضوں پر بھی عَمَل کرو! *کلمہ تو پڑھ لیا، اب ایمان کے شعبے بہت سارے ہیں، ان شعبوں کو بھی اختیار کرو! * کلمہ تو پڑھ لیا، اب ایمان میں مزید سے مزید ترقی کرتے چلے جاؤ! * کلمہ تو پڑھ لیا، اب اپنے ایمان کے کمال کی فِکْر میں لگ جاؤ!
بُلند درجات کمالِ ایمان سے ملتے ہیں
اے عاشقانِ رسول! جس نے کلمہ پڑھ لیا، سچّے دِل سے پڑھا، اب اگر وہ مَرتے دَم تک اس پر قائِم رہتا ہے، حالتِ ایمان ہی میں قبر میں اُترتا ہے، وہ جنّت کا حقدار تو ہے مگر فضیلت
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami