Share this link via
Personality Websites!
ان ہی رسولِ مَقْبُول صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے ہمیں اللہ پاک کی خَبر دی۔مُشرِک بولا: پِھر تمہارے اُن رَسول کا کیا ہوا؟ ہم نے کہا: جب اُنہوں نے اللہ پاک کا پیغام پُورا پُورا ہم تک پہنچا دیا تو رَبِّ کریم نے انہیں اپنے پاس بُلا لیا۔ مُشرِک بولا: کیا ان کی کوئی نشانی تمہارے پاس ہے؟ ہم نے جواب دیا: ہاں! اللہ پاک کی کتاب ہے۔ بولا: لاؤ! مجھے دِکھاؤ!
اب ہم نے اسے قرآنِ کریم دِکھایا۔ اس نے دیکھ بھال کر کہا: مجھے تو یہ پڑھنا نہیں آتا۔ چنانچہ ہم نے اسے پڑھ کر سُنایا۔
اللہ! اللہ! قرآنِ کریم کی کیا نِرالی شان ہے، ہم نے جُوں ہی تِلاوت کی، قرآنِ مجید کے مُقَدّس الفاظ تاثِیر کا تِیر بن کر اس کے دِل پر لگے، اب وہ تِلاوت سُنتا جا رہا تھا، روتا جا رہا تھا، آخِر بولا: یہ جس ہستی کا کلام ہے، حق بنتا ہے کہ اس کی نافرمانی نہ کی جائے۔ یہ کہہ کر اُس مُشرِک نے کلمہ پڑھا اور مسلمان ہو گیا۔
اب ہم نے اسے اپنے ساتھ بحری جہاز میں سُوار کر لیا۔ راستے میں ہم نے اُسے قرآنِ کریم کی ایک سُورت بھی سکھا دِی۔ جب رات ہوئی تو ہم سب اپنے بستروں کی طرف بڑھ گئے، وہ نَو مُسْلِم بولا: اے قوم! وہ خُدا جس کی پہچان تم نے مجھے کروائی، کیا وہ سوتا بھی ہے؟ ہم نے کہا: نہیں، وہ حَیٌّ و قَیُّوم ہے، اسے نہ نیند آتی ہے، نہ اُونگھ آتی ہے۔ یہ سُن کر اس نَو مُسْلِم نے کہا: یہ بےاَدبی ہےکہ بندہ اپنے مالِک کے سامنے سویا رہے۔ یہ کہہ کر وہ کھڑا ہو گیا، ساری رات کھڑا رَوتا رہا، رَوتا رہا، یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔
عبد ُالواحِد بن زید فرماتے ہیں: جب ہم عِبَادان (نامی شہر) میں پہنچے تو ہم دوستوں نے مِل کر کچھ رقم جمع کی اور اس نَو مُسْلِم کو دی۔ رقم دیکھ کر وہ بولا: یہ کیا ہے؟ ہم نے کہا: ہم تمہاری
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami