Share this link via
Personality Websites!
بھی مجھ سے بہتر حالت میں ہو گا۔ پوچھا: ایسا کیوں؟ فرمایا: میں گنہگار بندہ ہوں اور جو کچھ نیکیاں کر پایا ہوں، وہ قبول ہوئیں، یا میرے منہ پر مار دی جائیں گی، میں نہیں جانتا۔([1])
پیارے اسلامی بھائیو! یہ بھی کامِل ایمان کی نشانی ہے، جس کا ایمان جتنا مضبوط ہوتا ہے، اس پر اتنا ہی خوفِ خُدا کا غلبہ رہتا ہے۔ کاش! ہمیں بھی خوفِ خُدا کی دولت نصیب ہو جائے۔
اپنے اندر خوفِ خُدا پیدا کرنے کے لئے * قرآنِ کریم کی تِلاوت کا معمول بنایا جائے، بالخصوص وہ آیات جن میں اللہ پاک کے عذاب کا، جہنّم کا، قیامت کا ذِکْر ہے، اُن آیات کا ترجمہ اور تفسیر پڑھ کر ذِہن میں بٹھا کر خوب تَوَجُّہ سے بار بار اُن آیات کی تلاوت کی جائے *احادیث میں خوفِ خُدا کا بیان ہے، ایسی احادیث پڑھی جائیں * خوفِ خُدا پر مبنی کتابوں کا مطالعہ کیا جائے * خوفِ خُدا رکھنے والے بزرگانِ دِین کی سیرت پڑھی جائے * کم از کم ہفتے میں ایک بار قبرستان حاضِری دی جائے، وہاں فاتحہ شریف بھی پڑھی جائے ساتھ ہی ساتھ اس بات پر غور بھی کیا جائے کہ عنقریب میں نے بھی قبر میں اُترنا ہے، اس وقت میری بےبسی کا عالَم کیا ہو گا؟ پھر قبر کے مُعَاملات پر غور بھی کیا جائے * کبھی روزِ قیامت اللہ پاک کے حُضُور حاضِری کا خیال آگیا، کبھی جہنّم کا خیال آگیا، یہ خیال بس چند سیکنڈ کا ہوتا ہے اور یہ خیالات خوفِ خُدا کے متعلق پڑھتے رہنے سے، خوفِ خُدا کے متعلق بیانات وغیرہ سنتے رہنے سے حاصِل ہوتے ہیں، پھر جب یہ خیال دِل میں آنے لگ جائیں تو پھر ضروری ہے کہ اِن خیالات کو دِل میں پختہ کیا جائے، مثلاً روزانہ رات کو تنہائی میں بیٹھ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami