Share this link via
Personality Websites!
ہے، صَدْ اَفْسَوس! آج مسلمان قرآن نہیں سیکھتے، غیر مسلموں کے فلسفے سیکھ لیتے ہیں، اپنے آقا و مولا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی سیرت کو نہیں دیکھتے، غیر مسلموں کے انداز اپنا لیتے ہیں۔
پیارے اسلامی بھائیو! پہلے کے نیک مسلمان ایسے ہی تھے، وہ کسی قوم کی نقل نہیں کرتے تھے، وہ اپنے آقا و مولا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی سنتیں اپناتے تھے، قرآنِ مجید کے بتائے ہوئے اُصُولوں پر چلتے تھے، دُنیا میں اُن کی دُھوم تھی، رَبِّ کائنات نے انہیں ترقی عطا فرمائی تھی، انہیں عُرُوج بخشا گیا تھا، غیر مسلم اُن پر رشک کرتے تھے، یہاں تک کہ اُن کے اَخْلاق و کردار سے متاثر ہو کر کُفّار کلمہ پڑھ لیا کرتے تھے۔
مدینہ شریف کا ایک خوبصُورت واقعہ
پیارے اسلامی بھائیو! یہ ایک مؤمن کی شان ہے، بندۂ مؤمن سراپا خیر ہوتا ہے۔ پہلے کے مسلمانوں میں ایک دوسرے کی خیر خواہی کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا، امیرِاہلسنت مولانا محمد الیاس عطارقادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ لکھتے ہیں: کسی نے حضرت سیّدی قطبِ مدینہ مولانا ضیاء الدِّین مدنی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کی بارگاہ میں عرض کیا: یاسیِّدی !پہلے کے (غالِباً ترکوں کے دَور کے ) اہلِ مدینہ کو آپ رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے کیسا پایا؟ فرمایا : ایک مال دَار حاجی صاحب غریبوں میں کپڑا تقسیم کرنے کی نیّت سے خریداری کیلئے ایک کپڑا بیچنے والے کی دُکان پر پہنچے اور مطلوبہ کپڑا کافی مقدار میں طَلَب کیا۔ دُکان دارنے کہا : میں آرڈر پورا تو کرسکتا ہوں مگر میری دَرخواست ہے کہ آپ سامنے والی دُکان سے خرید لیجئے کیونکہ الحمد للہ ! آج میری اچھی بِکری ہوگئی ہے، اُس بے چارے پڑوسی دُکان دار کی آمدن کچھ کم ہوئی ہے۔ حضرت
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami