Share this link via
Personality Websites!
سے اَفْضَل، سب سے بہتر ہونا لازِم و ضروری ہے*عبادات و معاملات ہوں *یا اَخْلاق و عادات، غرض زندگی کے ہر شعبے میں، زِندگی کے آخری لمحات تک ایک مسلمان خیر ہی خیر ہو، بَس پُوری زِندگی قرآن و سُنّت کا دامن تھامے سیدھے رستےپر چلتا جائے تاکہ دوسری قومیں مسلمان کو دیکھ کر پُکار اُٹھیں کہ واقعی یہ خَیْرُ الْاُمَمْ (یعنی بہترین قوم)ہیں۔ ([1])
پیارے اسلامی بھائیو! یہ ہے ایک مسلمان کی اَوَّلین ذِمَّہ داری کہ مسلمان ہمیشہ خَیْرُ الْاُمَمْ یعنی بہترین اُمَّت بن کر رہے۔ یقیناً جو بہتر ہوتا ہے، وہ آئیڈیل (Ideal)بھی ہوتا ہے اور جو آئیڈیل ہوتا ہے، وہ دوسروں کی نقل نہیں کرتا، دوسرے اُس کے پیچھے چلتے ہیں، لہٰذا ہونا یہ چاہئے کہ مسلمان ایسا بَن کر رہے کہ *دوسری قومیں اس کی پیروی کریں * مسلمان کے اَخْلاق ایسے اعلیٰ ہوں کہ دِیگر قومیں مسلمانوں سے اَخْلاق سیکھیں * مسلمان کا کردار ایسا اعلیٰ ہو کہ دوسری قومیں کردار کی بہتری کے لئے اس کی صحبت اپنائیں * ایک مسلمان کی عادات*اس کے اَفْعَال*اس کی گفتار*طور طریقے*چال چلن ایسا بہتر ہو کہ اسے آئیڈیل بنایا جائے، اس کی پیروی کی جائے، دوسری قومیں اس کے کردار (Character)، اَخْلاق و عادات پر رشک کریں اور اسے دیکھ کر جینا سیکھیں۔
مگر افسوس! آج حالات اُلٹ ہیں، خَیْرُ الْاُمَمْ (بہترین اُمَّت) ہم ہیں، ہونا تو یہ تھا کہ ہم دوسروں کیلئے آئیڈیل بنتے، ہم نے دوسری قوموں کو اپنا آئیڈیل بنا لیا، ہونا تو یہ تھا کہ قومیں ہماری نقل کرتیں مگر ہم نَقَّال بن گئے، ہم دوسروں کی نقل کرنے لگے*چَال ڈَھال میں غیروں کی نقل*تعلیم(Education) میں غیروں کی نقل*اُصُول و قوانین میں غیروں کی نقل*حتیٰ کہ جوتے کپڑے خریدنے اور کھانے پینے میں بھی غیر قوموں کی نقل کی جاتی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami