Share this link via
Personality Websites!
(3): مؤمن بااَخْلاق ہوتا ہے
پیارے اسلامی بھائیو! کامِل مؤمن کی تیسری اور اَہَم ترین نشانی اچھے اَخْلاق ہیں۔ حدیثِ پاک میں ہے: رسولِ ذیشان، مکی مَدَنی سلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: اِنَّ اَکْمَلَ الْمُؤمِنِینَ اِیْمَانًا اَحْسَنُہُمْ خُلُقًا یعنی اَہْلِ ایمان میں زیادہ کامِل ایمان والا وہ ہے، جس کے اخلاق سب سے اچھے ہیں۔ ([1])
معلوم ہوا جس کے اَخْلاق جتنے زیادہ اچھے ہوں، اس کا ایمان اتنا ہی مضبوط اور کامِل ہوتا ہے۔ افسوس! اس معاملے میں تو آج مسلمان بہت ہی پیچھے ہیں۔ اَخْلاقیات کا سبق اَصْل میں اسلام نے دیا مگر ہم نے اَخْلاق چھوڑ دئیے! غیروں نے ہمارے والے ہی اَخْلاق اپنا لئے۔ اب حالات یہاں تک جاپہنچے ہیں کہ ہم اپنے ہی اَخْلاق غیروں سے سیکھتے ہیں، اُن سے کلاسیں لیتے ہیں، غیروں کے اَخْلاق کی تعریف کرتے ہیں اور یہ بُھول گئے کہ اَصْل میں یہ ہمارا ہی وِرْثہ تھا، ہم نے نہیں اپنایا، دوسروں نے اپنا لیا، پِھر جنہوں نے اپنایا، وہ دُنیا میں ترقی کر گئے۔ ہم پیچھے رہ گئے۔
اُمَّتِ مسلمہ خیرُ الْاُمَمْ ہے
حضرت علّامہ مفتی عبد المصطفیٰ اعظمی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں: ایک مسلمان کے لئے زِندگی کا پہلا مقصد خَیْرُ الْاُمَمْ یعنی بہترین اُمّت ہونا ہے۔ جس طرح *گلاب کے لئے خوشبو *موتی کے لئے چمک *اور سورج کے لئے روشنی لازم ہے، اسی طرح ایک مسلمان کے لئے *اپنے اَعْمَال و اَفْعَال کے لحاظ سے تمام اُمّتوں میں سب سے اعلیٰ، سب
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami