Share this link via
Personality Websites!
ہے*نماز اچھے انداز سے پڑھتا ہے*خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرتا ہے۔
مگر افسوس! آج کل اس مُعاملے میں بھی حالت بہت نازُک ہے۔ نمازیوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ حالانکہ نماز انتہائی اَہَم تَرِین عِبَادت ہے۔مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت فارُوقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ کا فرمان ہے: جو نماز کی حفاظت نہیں کرتا، اس کا دِین میں کوئی حصّہ نہیں ہے۔ ([1]) کاش! ہمیں نمازوں کی فِکْر نصیب ہو جائے۔
آپ قرآنِ کریم پڑھیئے! پانچویں سپارے میں نمازِ خَوف کا بیان ہے، نمازِ خَوف کیا ہوتی ہے؟ جنگ کی حالت میں پڑھی جانے والی نماز...!! ایک مرتبہ غیر مُسْلِمُوں نے سازش کی تھی کہ مسلمانوں کونماز بہت عزیز ہے، جب یہ نماز پڑھتے ہوں گے تو ہم ان پر حملہ کر دیں گے۔ اللہ پاک نے اپنے محبوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کو نمازِ خَوف کا حکم دیا کہ عین لڑائی میں جب نماز کا وقت ہو جائے تو تب یُوں کریں کہ آدھے صحابہ نماز میں شریک ہوں، آدھے حفاظت کریں، پِھر باقی آدھے نمازِ باجماعت میں شامِل ہوں اور پہلے والے حفاظت کریں۔ غرض نمازِ خوف کا ایک پُورا طریقہ ہے، جو کتابوں میں لکھا ہے۔
عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آج ہم معمولی کاموں کی وجہ سے نماز قضا کر دیتے ہیں، جماعت گزار دیتے ہیں جبکہ نماز اتنی اہم ہے کہ عین حالتِ جنگ میں جب غیر مُسْلِم حملے کی پلاننگ کر چکے تھے، اس وقت بھی نماز قضا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
اللہ پاک توفیق بخشے، ہمیں نماز کی فِکْر نصیب ہو جائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami