Share this link via
Personality Websites!
ایمان والوں کا انداز نہیں ہے، ایک مسلمان کبھی فارِغ ہو ہی نہیں سکتا، حضرت قاضی شُرَیح رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے 2اَفراد کو فضول کام کرتے ہوئے دیکھا، فرمایا: اَلْفَارِغُ مَا اُمِرَ بِھَذَایعنی فارغ شخص کو اس کام کا حکم نہیں دیا گیا، اللہ پاک فرماتا ہے: ([1])
فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْۙ(۷) (پارہ:30، اَلَم نَشْرَح:7)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: تو جب تم فارغ ہو تو خوب کوشش کرو۔
یعنی اپنے فارغ وقت کو عبادت میں صرف کر!مطلب یہ کہ جب ایک عبادت سے فارغ ہو دوسری شروع کر اور کسی وقت عبادت سے خالی نہ رہ کہ مقصودِ اصلی ،عالَم کے پیدا کرنے سے یہی ہے۔ ([2])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
(2):نمازوں کی حفاظت کرنے والا
پیارے اسلامی بھائیو! کامِل مؤمن کی دوسری نشانی ہے کہ وہ نمازوں کی حِفاظت کرنے والا ہوتا ہے۔ اللہ پاک فرماتا ہے:
وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ یُحَافِظُوْنَۘ(۹) (پارہ:18، اَلْمُؤمِنُون:9)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اور وہ جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔
الله ُاكبر! یہ بھی کامِل مؤمن کا ایک اَہَم وَصْف ہے، جو کامِل ایمان والا ہے*وہ اپنی نمازوں کی حفاظت کرتا ہے*نمازیں قضا نہیں کرتا*نمازوں کے اَوْقات کا خیال رکھتا
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami