Book Name:Halal Ke Fazail
صَالِحًاؕ- (پارہ:18، سورۂ مؤمنون:51)
کھاؤ اور اچھا کام کرو۔
بالکل یہی حکم باقی مسلمانوں کو بھی دیا، فرمایا:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ (پارہ:2، سورۂ بقرہ:172)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان:اے ایمان والو! ہماری دی ہوئی ستھری چیزیں کھاؤ۔
اتنا فرمانے کے بعد آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے ایک شخص کا ذِکْر کیا، فرمایا: ایک بندے نے لمبا سَفَر کیا، بال پراگندہ ہیں، بدن غُبَار آلود ہے، وہ اپنے ہاتھ آسمان کی طرف پھیلا کر اللہ پاک کو پُکارتا ہے: یَا رَبِّ! یَا رَبِّ !
صُورتِ حال ایسی ہے کہ
وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ وَغُذِّيَ بِالْحَرَامِ
ترجمہ: اس کا کھانا حرام، اس کا پینا حرام، پہننا حرام، پلا بڑھا حرام سے۔
فرمایا:
فَاَنَّى يُسْتَجَابُ لِذٰلِكَ
ترجمہ: یعنی جب اس کا کھانا، پینا، پہننا حرام ہے تو اس کی دُعائیں کہاں سے سُنی جائیں گی؟([1])
اللہ اکبر! پیارے اسلامی بھائیو! غور فرمائیے! لقمۂ حرام کی کتنی نحوست ہے، بندہ لاکھوں روپیہ لگا کر حج کے لیے جاتا ہے، اِحْرام باندھتا ہے، لَبَّیْک اَللّٰہُمَّ لَبَّیْک کی صدائیں لگاتا ہے، کعبہ شریف کا غلاف تھام کر دُعائیں کرتا ہے مگر اُس کا کھانا پینا حرام ہے تو اِس اعلیٰ ترین مقام پر، اعلیٰ ترین حالت میں بھی اُس کی دُعائیں قبول نہیں ہوتیں۔