Book Name:Halal Ke Fazail
اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم )کی جان ہے!بے شک بندہ حرام کا لُقْمہ اپنے پيٹ میں ڈالتا ہے تو اُس کے 40دن کے عمل قَبول نہيں ہوتے اور جس بندے کا گوشت حرام اور سُود سے پلا بڑھا ہو،اُس کے لیے آگ زيادہ بہترہے۔([1])
ایک روایت میں فرمایا: جو شخص 10درہم میں ایک کپڑا خریدے اور اِن دَراہِم میں حرام کا ایک دِرہم بھی شامِل ہو تو اللہ پاک اُس وقت تک اس کی کوئی نماز بھی قَبول نہیں فرمائے گا کہ جب تک اس کپڑے میں سے کچھ بھی اس کے استعمال میں رہے۔([2])
ایک حدیثِ پاک میں ہے: اللہ پاک کاایک فِرشتہ ہر دن اور رات میں بیتُ المقدس کی چھت پر نِدا کرتا ہے : مَنْ کَانَ طَعْمَتُہٗ حَرَامًا کَانَ عَمَلُہٗ مَضْرُوْبًا بِہٖ وَجْہَہٗ جس کا کھانا حرام ہے، اس کے اعمال اس کے مُنہ پر مار دئیے جاتے ہیں۔([3])
شیخِ طریقت،امیرِ اہلسنّت، حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطاؔر قادِری دَامَتْ بَرَکاتُہمُ العالیہ حرام کھانے والوں، عہدتوڑنے والوں، جھوٹ بولنے والوں کو گویا چوٹ کرتے ہوئے سمجھا رہے ہیں:
کھائیں رزقِ حرام، ایسے ہیں بد لگام اُن کو کس نے کہا؟ عاشقانِ رسول
عہد توڑا کریں، جھوٹ بولا کریں اُن کو کس نے کہا؟ عاشقانِ رسول([4])
پیارے اسلامی بھائیو! دیکھیے! حرام کھانے کی کیسی کیسی نحوستیں ہیں، افسوس! ہمارے