Shan e Ameer e Hamza Me Qurani Ayaat

Book Name:Shan e Ameer e Hamza Me Qurani Ayaat

پتا چلا؛ حضرت امیر حمزہ  رَضِیَ اللہ عنہ   پاک نفس والے، اللہ پاک کی رضا میں راضِی رہنے والے، ہر دَم اس کی رضا کی جستجو میں رہنے والے، نیکیوں میں سُکون پانے والے، ذوق و شوق اور استقامت کے ساتھ نیک اعمال کرنے والے ہیں۔

مزید ان آیات میں بتایا گیا کہ (2): آپ اللہ پاک سے راضِی ہیں اور اللہ پاک آپ سے راضِی ہے (3): آپ کو جنّت عطا کی گئی اور (4): آپ کو اللہ پاک کے خاصُ الخاص بندوں میں شامِل کر دیا گیا ۔

حضرت حمزہ جنّت میں ٹیک لگائے ہوئے

حضرت عبد اللہ بن عبّاس  رَضِیَ اللہ عنہ  سے روایت ہے، اللہ پاک کے آخری نبی، رسولِ ہاشمی  صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا: رات مَیْں جنّت میں داخِل ہوا تو دیکھا؛ حمزہ ( رَضِیَ اللہ عنہ   ) اپنے دوستوں کے ساتھ موجود تھے۔([1])

ایک روایت میں ہے، فرمایا: رات مَیْں جنّت میں داخِل ہوا تو دیکھا: حضرت جعفر طیَّار  رَضِیَ اللہ عنہ  فرشتوں کے ساتھ ہوا میں اُڑ رہے تھے جبکہ حضرت حمزہ  رَضِیَ اللہ عنہ  تخت پر ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔([2])

خاصُ الخاص بندے کون...؟

پیارے اسلامی بھائیو! ان آیات میں ارشاد ہوا:

فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْۙ(۲۹) (پارہ:30،سورۂ فجر:29)

تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: پھر میرے خاص بندوں


 

 



[1]...استیعاب، رقم:331، باب جعفر، جلد:1، صفحہ:314ملتقطاً۔

[2]...مستدرک، کتاب معرفۃ الصحابۃ، جلد:4، صفحہ:201، حدیث:4942۔