Shan e Ameer e Hamza Me Qurani Ayaat

Book Name:Shan e Ameer e Hamza Me Qurani Ayaat

ارْجِعِیْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةًۚ(۲۸) (پارہ:30،سورۂ فجر:28)

تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اپنے ربّ کی طرف اس حال میں واپس آ کہ تو اس سے راضی ہووہ تجھ سے راضی ہو۔

فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْۙ(۲۹) وَ ادْخُلِیْ جَنَّتِیْ۠(۳۰) (پارہ:30،سورۂ فجر:29-30)

تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: پھر میرے خاص بندوں میں داخِل ہوجا اَور میری جنّت میں داخِل ہوجا۔

پیارے اسلامی بھائیو! اِن آیاتِ کریمہ سے چند باتیں مَعْلُوم  ہوئیں: (1):حضرت امیر حمزہ  رَضِیَ اللہ عنہ   نَفْسِ مُطْمَئِنَّہ والے  عظیم انسان  ہیں

نفس کی 3 اقسام

نفسِ انسانی کی 3 قسمیں ہیں: (1): :وہ نفس جو بُرائی پر اُبھارتا رہتا ہے، اُسے نفسِ اَمَّارہ کہتے ہیں (2): :وہ نفس جو بندے کو گُنَاہ پر ڈانٹتا اور ملامت کرتا رہتا ہے، اسے نَفْسِ لَوَّامَہ کہتے ہیں (3): تیسرا نفس ہے: نَفْسِ مُطَمَئِنَّہ، یہ سب سے اَفضل اور اَعلیٰ درجے کا ہوتا ہے، جب آدمی کا اندر، اس کا ضمیر، اس کا نفس اللہ پاک کے احکام اور اس کی رضا کی طلب میں رچ بس جائے، اُسے نیکی کرنے میں مزہ آنے لگے، سکون ملنے لگے، نیکی سے ہٹنا، نیکی سے رُکنا اس پر بوجھ ہوتا ہے، ایسے نفس کو نَفْسِ مُطَمَئِنَّہ کہتے ہیں۔ ([1])

چنانچہ حضرت امیر حمزہ  رَضِیَ اللہ عنہ   کا آخری وقت ہوا تو آپ کو خطاب ہوا:

یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىٕنَّةُۗۖ(۲۷) (پارہ:30،سورۂ فجر:27)

تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: اے اِطمینان والی جان۔


 

 



[1]...تفسیرصراط الجنان ، پارہ :30،سورۃ الفجر، زیرآیت :27،جلد:10 ،صفحہ:674 مفصلًا۔