Book Name:Shan e Ameer e Hamza Me Qurani Ayaat
معجمِ کبیر میں ہے: اللہ پاک کے آخری نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! بےشک ساتویں آسمان پر لکھا ہے: حَمْزَةُ بْن عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَسَدُ اللهِ وَأَسَدُ رَسُوْلِهِ یعنی حضرت حمزہ بن عبد المطلب اللہ اور اس کے رسول کے شیر ہیں۔ ([1])
وہی شیر ہیں خُدا کے اور شیر مصطفےٰ کے ہیں مُحِبِّ حبیبِ داور آقا امیر حمزہ!
(3):صاحِبِ نَفْسِ مُطْمَئِنَّہ
پارہ:30، سُورۂ فجر، آیت: 27 تا 30 ارشاد ہوتا ہے:
یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىٕنَّةُۗۖ(۲۷) ارْجِعِیْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةًۚ(۲۸) فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْۙ(۲۹) وَ ادْخُلِیْ جَنَّتِیْ۠(۳۰)
(پارہ:30،سورۂ فجر:27-30)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اے اِطمینان والی جان! اپنے ربّ کی طرف اِس حال میں واپس آ کہ تو اس سے راضی ہووہ تجھ سے راضی ہو، پھر میرے خاص بندوں میں داخِل ہوجا اور میری جنّت میں داخِل ہوجا۔
روایات کے مطابق یہ آیات حضرت امیر حمزہ رَضِیَ اللہ عنہ کی شان ہی میں نازِل ہوئی ہیں،([2]) جب آپ کی رُوح مبارَک جسمِ پاک سے جُدا ہونے لگی تو آپ کو خطاب ہوا:
یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىٕنَّةُۗۖ(۲۷) (پارہ:30،سورۂ فجر:27)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: اے اِطمینان والی جان۔