Shan e Ameer e Hamza Me Qurani Ayaat

Book Name:Shan e Ameer e Hamza Me Qurani Ayaat

مَعْلُوم  ہوا ؛ اصل زِندگی دِل کی زِندگی ہے، جس کے دِل میں ایمان کا نُور موجود ہے، وہ زِندہ ہے، اور جس کے دِل میں یہ نُور موجود نہیں ہے، اُس کا دِل بھی مردہ ہے، وہ خود بھی زِندوں کی شکل میں مُردہ ہے۔

زِندگی زِندہ دِلی کا نام ہے                  مُردہ دِل کیا خاک جیا کرتے ہیں

دِل کی حفاظت کیجیے...!

پیارے اسلامی بھائیو! یہاں سے معلوم ہوا کہ دِل کی حفاظت کرنا زیادہ ضروری ہے، آج کل ہمارے ہاں لوگ ظاہِری جسم کی دیکھ بھال پر زیادہ توَجُّہ دیتے ہیں، ہمارے جسم کو روزانہ کتنی خوراک کی حاجت ہے؟ کتنی کیلوریز ضروری ہیں، جسمانی طور پر کمزوری ہو تو ڈاکٹر سے رجوع بھی کیا جاتا ہے، لوگ جسم کو فِٹ رکھنے کے لیے  ورزش بھی کرتے ہیں،اور جسم کو فِٹ رکھنے کے لیے  ویٹ لفٹنگ (Weightlifting)بھی کرتے ہیں۔

خود کو جسمانی طور پر تندرست رکھنے کی کوشش بُری نہیں ہے، البتہ یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ کیا یہ سب کچھ ہم اپنے دِل کے معاملے میں بھی کرتے ہیں؟ کیا کبھی ہم نے سوچا کہ ہمارا دِل تندرست ہے یا نہیں؟ کہیں ہم باطنی طور پر بیمار تو نہیں ہیں؟ کہیں ہمارے دِل میں حسد، تکبر، بغض، کینہ وغیرہ ایمان لیوا بیماریاں تو جنم نہیں لے چکیں؟

افسوس کے ساتھ عرض کرنا پڑتا ہے کہ عموماً اس جانِب تَوَجُّہ نہیں کی جاتی۔ حالانکہ اَصْل زِندگی زِندہ دِلی ہی کا نام ہے۔کیا خوب کہا کسی نے کہ:

دِلِ مُردَہ دِل نہیں، اسے زِندہ کر دوبارہ   یہی ہے اُمّتوں کے مرضِ کُہُن کا چارہ

وضاحت:مرضِ کُہُن: یعنی پُرانا مرض۔ مطلب یہ کہ قوموں کی اَصل بیماری کا علاج یہ ہے کہ اُن کا