Shan e Ameer e Hamza Me Qurani Ayaat

Book Name:Shan e Ameer e Hamza Me Qurani Ayaat

اس جیسا ہوجائے گا جو اندھیروں میں (پڑا ہوا) ہے(اور) ان سے نکلنے والا بھی نہیں ۔([1])

یہاں 2لوگوں کا آپس میں تقابل کیا گیا ہے (1):ایک حضرت امیر حمزہ  رَضِیَ اللہ عنہ ، ان کے مُتَعَلِّق  ارشاد ہوا: آپ نے پہلے کلمہ نہیں پڑھا ہوا تھا، پِھر اللہ پاک نے انہیں ایمان کی توفیق بخشی، ان کے دِل میں اِیمان کا نُور اُتار دیا (2): دوسرا ابوجہل ہے، اس کے مُتَعَلِّق  فرمایا: یہ اندھیروں میں بھٹک رہا ہے، ان سے نکلنے والا نہیں ہے۔

فرمایا: کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ ہر گز نہیں ہو سکتے۔

زِندگی کا حقیقی مفہوم

اے عاشقانِ رسول! اس آیتِ کریمہ میں زِندگی کا عجیب فلسفہ بیان کیاگیا ہے، عام طور پر حرکت کو زِندگی کہا جاتا ہے، جس کی سانسیں چل رہی ہوں، جو بول سکتا ہو، سُن سکتا ہو، چل پھر سکتا ہو، اسے زِندہ کہا جاتا ہے، لیکن اس جگہ قرآنِ کریم نے زِندگی کا ایک اَور ہی مفہوم بیان فرمایا ہے، دیکھئے! حضرت امیرِ  حمزہ  رَضِیَ اللہ عنہ    کو دُنیا میں تشریف لائے 40 سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا تھا، آپ چلتے پھرتے بھی تھے، کھاتے پیتے بھی تھے، شکار بھی کیا کرتے تھے، اس کے باوُجُود اللہ پاک نے فرمایا:

كَانَ مَیْتًا (پارہ:8،سورۂ انعام:122)

تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: وہ جو مردہ تھا ۔

پھر جب آپ نے اسلام قبول کر لیا، آپ کا دِل نورِ ایمان سے روشن ہو گیا تو فرمایا:

فَاَحْیَیْنٰهُ (پارہ:8،سورۂ انعام:122)

تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:پھر ہم نے اسے زندہ کردیا ۔


 

 



[1]...تفسیر کبیر، پارہ:8،سورۂ انعام، تحت الآیۃ:122، جلد:5، صفحہ:134۔