Book Name:Shan e Ameer e Hamza Me Qurani Ayaat
پیارے اسلامی بھائیو! 15 شوال ، 3 ہجری کو حق و باطِل کا عظیم معرکہ ہوا، جسے غزوۂ اُحد کہا جاتا ہے، غزوۂ اُحد میں حضرت امیر حمزہ رَضِیَ اللہ عنہ بھی شریک تھے، آپ بہت بہادری سے لڑے، آخر شہادت کے بلند رُتبے پر فائِز ہوئے۔([1]) بوقتِ شہادت آپ کی عمر مبارک 57سال تھی۔([2])
سرداری تمہیں حاصِل ہے سارے شہیدوں کی یوں حق کی حفاظت میں کی جان فِدا حمزہ!
احسان نہ بھولے گا میدانِ اُحُد تیرا ہے اس کی شبِ جاں میں اب تیری ضیا حمزہ!
آئیے! حضرت امیر حمزہ رَضِیَ اللہ عنہ کی شان میں اُترنے والی آیات سنتے اور ان سے سبق سیکھتے ہیں:
(1):نُور عطا ہو گیا
حضرت امیر حمزہ رَضِیَ اللہ عنہ نے ہجرت سے پہلے مکہ پاک ہی میں اِیمان قبول کرنے کی سعادت پائی، جب آپ دولتِ اسلام سے مالا مال ہوئے تو اس وقت آپ کی شان میں یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی:
اَوَ مَنْ كَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰهُ وَ جَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِهٖ فِی النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَاؕ-
(پارہ:8،سورۂ انعام:122)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اور کیا وہ جو مردہ تھا پھر ہم نے اسے زندہ کردیا اور ہم نے اس کے لیے ایک نور بنا دیا جس کے ساتھ وہ لوگوں میں چلتا ہے (کیا) وہ