Book Name:Shan e Ameer e Hamza Me Qurani Ayaat
(3):اللہ پاک سے مدد مانگتے رہیے!
تزکیۂ نفس کے لیے سب سے اَہَم بات جو بہت زیادہ ضروری ہے وہ یہ کہ اللہ پاک سے دُعا مانگنا ہرگز نہ بھولیں کیونکہ نفسِ اَمَّارہ بہت سرکش دُشْمن ہے، شیطان جو راہ بھٹکنے سے پہلے بہت بڑا عالِم اور عِبَادت گزار تھا اور انتہائی چالاک اور مکّار بھی ہے، نفسِ اَمَّارہ سے وہ بھی مقابلہ نہ کر پایا، اس بدبخت کو بھی نفسِ اَمَّارہ ہی نے بھٹکا کر ہمیشہ کے لیے کافِر و نامراد کر دیا تو سوچئے! ہم نفسِ اَمَّارہ کا مقابلہ کیسے کر پائیں گے۔ لہٰذا اللہ پاک کی مدد شامِل حال ہو گی تو ہی نفسِ اَمَّارہ سے رہائی مِل سکے گی۔ اللہ پاک کے نبی حضرت یُوسف عَلَیْہِ السَّلَام کا یہ خوبصُورت فرمان قرآنِ کریم میں بھی موجود ہے، آپ نے فرمایا:
اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْؕ- (پارہ :13،سورۂ یوسف :53)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:بیشک نفس تو برائی کا بڑا حکم دینے والا ہے مگر جس پر میرا ربّ رحم کرے ۔
یعنی نفسِ اَمَّارہ بُرائی کا بہت حکم دینے والا ہے، اس کے شَر سے بچتا وہی ہے جس پر اللہ پاک کا رحم و فضل ہوتا ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عبّاس رَضِیَ اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ پاک کے آخری نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم سورۂ شمس کی یہ آیات تِلاوت کرتے:
وَ نَفْسٍ وَّ مَا سَوّٰىهَاﭪ(۷) فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَاﭪ(۸)(پارہ :30 ،سورۂ شمس :7-8)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اور جان کی اور اس کی جس نے اسے ٹھیک بنایا۔ پھر اس کی