Book Name:Shan e Ameer e Hamza Me Qurani Ayaat
طیبہ میں مَیْں بھی آؤں، اب دیجیے اجازت میرے غریب پرور آقا امیرِ حمزہ!
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
شیخ سعید بن قُطْب رحمۃُ اللہ علیہ حضرت امیر حمزہ رَضِیَ اللہ عنہ کے مزار مبارک پر کثرت سے حاضِری دیا کرتے تھے۔ عموماً مدینۂ منورہ کے رہنے والے عاشقانِ رسول 12 رجب کو حضرت امیر حمزہ رَضِیَ اللہ عنہ کے مزار مُبارَک پر حاضِری دیتے تھے مگر حضرت سعید بن قطب رحمۃُ اللہ علیہ کچھ دِن پہلے ہی حاضِر ہو جاتے اور 12 رجب تک وہیں ٹھہرے رہتے تھے۔ شیخ محمد بن عبدُ اللطیف مالکی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ایک روز میں بھی شیخ سعید رحمۃُ اللہ علیہ کے ساتھ حضرت امیر حمزہ رَضِیَ اللہ عنہ کے مزار مبارک پر حاضِر ہو گیا، رات ہوئی تو سب لوگ سو گئے، میں ان کی حفاظت کے لیے جاگتا رہا، رات کو میں نے وہاں ایک گھوڑے سوار دیکھا، جو مزار مُبارَک کے قریب چکر لگا رہا تھا، میں نے اس گھوڑے سوار سے پوچھا: تم کون ہو؟ فرمایا: میرا نام حمزہ بن عبد الْمُطْلب ہے اور میں تم لوگوں کی حفاظت کر رہا ہوں ۔ اتنا فرماکر حضرت امیر حمزہ رَضِیَ اللہ عنہ نظروں سے اوجھل ہو گئے۔([1])
بابُ الدُّعا ہے بےشک جن کا مزارِ اَنْور وہ بندۂ خدا ہیں حضرت امیر حمزہ
سُبْحٰنَ اللہ! پیارے اسلامی بھائیو! اِن ایمان اَفْروز واقعات سے معلوم ہوا؛ حضرت امیر حمزہ رَضِیَ اللہ عنہ وہ عظیم اور پاک رُوْح والی ہستی ہیں، آپ کو حکم ہوا:
فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْۙ(۲۹) (پارہ:30،سورۂ فجر:29)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: پھر میرے خاص بندوں