Book Name:Shan e Ameer e Hamza Me Qurani Ayaat
انہوں نے فرمایا: احمد! آپ مِصْر چلے جائیے! عرض کیا: عالی جاہ! کیسے جاؤں؟ میرے پاس تو کرایہ بھی نہیں ہے اور اُونٹ بھی مَر گئے ہیں۔ وہ بزرگ شیخ احمد رحمۃُ اللہ علیہ کو ساتھ لے کر مِصْری حاجیوں کے ایک خیمے میں گئے اور ایک شخص کو اُونٹوں کا کرایہ دے کر فرمایا: آپ شیخ احمد اور ان کی والدہ کو مِصْر پہنچا دیں۔اس مِصْری حاجی نے بھی اُن بزرگ کی بہت عزّت کی، اب شیخ احمد رحمۃُ اللہ علیہ نے جلدی سے اپنا سامان تیار کیا، والدہ محترمہ کو ساتھ لیا اور مِصْری حاجیوں کے خیمے میں پہنچ گئے، اس وقت تک وہ نیک بزرگ وہیں تشریف فرما تھے، اب نماز کا وقت تھا، شیخ احمد رحمۃُ اللہ علیہ اُن بزرگ کے ساتھ مسجدِ نبوی شریف میں حاضِر ہوئے، بزرگ نے فرمایا: اَحْمد! آپ چل کر نماز ادا کیجیے! شیخ اَحْمد رحمۃُ اللہ علیہ مسجد میں پہنچے، نماز ادا کی، مُنتَظِر تھے کہ نیک بزرگ بھی آتے ہی ہوں گے مگر وہ تشریف نہ لائے، شیخ احمد رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میں نے انہیں بہت تلاش کیا مگر کہیں نہ ملے، آخر میں شیخ صَفِیُ الدِّین رحمۃُ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضِر ہوا اَور سارا واقعہ عرض کیا۔ شیخ صَفِیُ الدِّین رحمۃُ اللہ علیہ نے اُن بزرگ کے حلیہ شریف کے بارے میں سُن کر فرمایا: وہ نیک بزرگ کوئی اور نہیں بلکہ رسولِ اکرم، نورِ مُجَسَّم صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کے چچا جان حضرت امیرِ حمزہ رَضِیَ اللہ عنہ ہی تھے جو آپ کی پریشانی دُور کرنے کے لیے تشریف لائے تھے۔([1])
سرکار کے ہیں دِلبر آقا امیرِ حمزہ! ہیں مُحِبِّ حَبِیْبِ داوَر آقا امیرِ حمزہ!
بھرتے ہیں سب کا دامن اللہ کی عطا سے آ جائے جو بھی در پر آقا امیرِ حمزہ!
بھر دیجیے مری جھولی، صدقے میں مصطفےٰ کے آیا ہوں تیرے در پر آقا امیرِ حمزہ!