Book Name:Shan e Ameer e Hamza Me Qurani Ayaat
میں داخِل ہوجا۔
یہاں عِبَادِیْ (یعنی اللہ پاک کے خَاصُ الخاص بندے) کون ہیں؟ اس تَعَلُّق سے قرآنِ کریم کی ایک دوسری آیت میں ہے:
فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًاۘ(۵) (پارہ:30،سورۂ نازعات:5)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: پھر (قسم ہے!) کائنات کا نظام چلانے والوں کی۔
اللہ پاک کے مختلف فرشتے ہیں، جن کی مختلف ڈیوٹیاں لگائی جاتی ہیں * کوئی فرشتہ بارش برسانے پر مُقَرَّر ہے*کوئی پہاڑوں پر ہے* کچھ فرشتے ہمارے اَعْمال لکھنے پر مقرر ہیں، یُوں مختلف فرشتوں کی مختلف ذِمَّہ داریاں ہیں، ان فرشتوں کو مُدَبِّر فرشتے کہتے ہیں،([1]) عُلَمائے کرام فرماتے ہیں: جب نَفْسِ مُطَمَئِنَّہ والی ہستی یعنی اَوْلیائے کرام دُنیا سے جاتے ہیں تو انہیں بھی ان فرشتوں میں شامِل کر کے مختلف ڈیوٹیاں دی جاتی ہیں۔([2]) اسی کے متعلق ارشاد ہوا:
فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْۙ(۲۹) (پارہ:30،سورۂ فجر:29)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: پھر میرے خاص بندوں میں داخِل ہوجا۔
یعنی اے نَفْسِ مُطَمَئِنَّہ! اے پاک رُوح...!! میرے خاصُ الخاص بندوں میں داخِل ہو جا...!!
عظیم عاشِقِ رسول حضرت علَّامہ یوسُف بن اسماعیل نبہانی رحمۃُ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ایک