Book Name:Subha Kis Hal Me Ki?
کہا: اَنَا زَیْدُنِ الْخَیْل یعنی میں گھوڑے والا زید ہوں۔ رسولِ ذیشان، مکی مَدَنی سلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: بَلْ اَنْتَ زَیْدُنِالْخَیْر (یعنی تم گھوڑے والے زید نہیں) بلکہ بھلائی والے زید ہو۔ پِھرفرمایا:پوچھو کیا پوچھناہے؟ اب اُن صحابی رَضِیَ اللہ عنہ نے 2 انوکھے سُوال پوچھے، عرض کیا: (1): وہ بندہ جو اللہ پاک کو پسند ہے، اس کی نشانی کیا ہے؟ (2):اور دوسرا یہ کہ وہ بندہ جسے اللہ پاک پسند نہیں فرماتا، اس کی نشانی کیا ہے؟
یہ انوکھے سُوال تھے، قربان جائیے! غیب کی خبریں جاننے والے نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے عِلْم پر...!!جیسے سُوال انوکھے تھے، آپ نے جواب بھی نِرالا ہی عطا فرمایا، ارشاد فرمایا:کَیْفَ اَصْبَحْتَ یَا زَید! یعنی اے زید! تم نے صُبْح کس کیفیت میں کی تھی؟ عرض کیا: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم! صُبْح جب کی تو میری کیفیت یہ تھی کہ *میرے دِل میں نیکی کی اور نیک لوگوں کی محبّت تھی *میرادِل چاہتا تھا کہ میں نیک کام کروں*پِھر جو نیکی مجھ سے رہ گئی، میں نہ کر پایا، مجھے اس پر دُکھ ہوا *اور جو نیکی میں کر پایا، چاہے وہ تھوڑی تھی یا زیادہ،مجھے اس پرثواب ملنے کا یقین ہو گیا۔
(یعنی یہ کُل چارکیفیات ہیں: (1): نیکی سے محبّت(2):نیک لوگوں سے محبّت (3): نیک کام کرنے کی چاہت (4): اگر کوئی نیکی نہ ہو پائی تو اس پر حسرت) رسولِ ذیشان، مکی مَدَنی سلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے حضرت زید الخیر رَضِیَ اللہ عنہ کا جواب سُن کر فرمایا: ہِیَ بِعَیْنِہَایَا زَیْد! یعنی اے زید! یہی تیرے سُوال کا جواب ہے۔ اگر اللہ پاک کی خفیہ تدبیر تیرے بارے میں کچھ اور ہوتی تو اللہ پاک اس کے عِلاوہ کام تیرے لئے آسان فرما دیتا اوراسے کچھ پرواہ نہ تھی کہ تم کس وادی میں ہلاک ہوتے ہو۔ ([1])