Ramazan Ke Bad Ki Zindagi

Book Name:Ramazan Ke Bad Ki Zindagi

اِذَا مَسَّهُمْ طٰٓىٕفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ

یعنی اَہْلِ تقویٰ کا یہ پاکیزہ وَصْف ہے، شیطان جب جب انہیں وَسْوَسَہ دِلاتا ہے، ان پر ایک کے بعد ایک وار کرتا رہتا ہے، وَسْوَسوں پر وَسْوَسے ڈالتا رہتا ہے مگر یہ اَہْلِ تَقویٰ بڑے باکمال ہوتے ہیں، کیا کرتے ہیں؟ فرمایا:

تَذَكَّرُوْا فَاِذَاهُمْ مُّبْصِرُوْنَۚ(۲۰۱) (پارہ:9، سورۂ اعراف:201)

تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:تو وہ (حکمِ خدا) یاد کرتے ہیں پھر اسی وقت ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔

تَذَکُّروْا: ذِکْر سے بنا ہے۔ اس کا معنیٰ ہوتا ہے: یاد کرنا۔ یعنی جب شیطان وَسْوَسے ڈالتا ہے تو اَہْلِ تقویٰ یاد کرتے ہیں: * اللہ پاک کے اِنْعامات یاد کرتے ہیں، وہ مالِکِ کریم ہے، اُس نے مجھے آنکھیں دیں، کیا اُس کی عبادت نہ کروں؟ * اُس نے مجھے کان عطا کئے، کیا اُس کی نافرمانی کروں؟ * اُس نے مجھے جسم دیا، کیا اُس کی نافرمانی کروں؟ * اُس نے مجھے جان عطا کی، سانسیں اُس نے دِیں، میرے رہنے کو زمین اُس نے دِی، آسمان کی چھت اُس نے عطا فرمائی * رِزْق کا ایک ایک ذَرَّہ اُس کی نعمت ہے، کیا اُس رحمٰن و رحیم کی نافرمانی کروں؟ نا، نا...!! میں ہر گز اس کی نافرمانی نہ کروں گا۔

* پِھر وہ آخرت کے عذابات کو یاد کرتے ہیں، آہ! میں نے مرنا ہے، قبر میں اُترنا ہے، اگر نافرمانی کر کے قبر میں پھنس گیا تو میرا کیا بنے گا؟ * آج گُنَاہ کیے، کل قبر میں سانپ بچھو آ گئے تو کیا کروں گا؟ * قیامت کے دِن جب اللہ پاک کے حُضُور حاضِری ہو گی، آج گُنَاہ کیے تو کل کس مُنہ سے اپنے مالِک کے حُضُور حاضِری دُوں گا؟ * آہ! اعمال نامہ الٹے ہاتھ میں دے دیا گیا تو کیا کروں گا؟ * پُل صراط پر روک لیا گیا تو کیا کروں گا؟