Ramazan Ke Bad Ki Zindagi

Book Name:Ramazan Ke Bad Ki Zindagi

میں مُنکَرنکِیر تشریف لے آئیں تواُنکو قَبْر سے ہٹا دینا۔عرض کی:سرکار!یہ کیافرما رہے ہیں! میں انہیں کیسے ہٹا سکوں گا !مجھ میں اتنی طاقت کہاں !آپ  رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ  نے ارشاد فرمایا:جب تم اُنہیں ہٹا نہیں سکتے تو اُن کے سُوالات کے جَوابات کی تیّاری ابھی سے کیوں نہیں کرلیتے ؟ (6): چھٹی اور آخِری نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:اگر قِیامت کے دن تمہیں جہنّم کا حکم سنایا جائے توکہہ دینا: نہیں جاتا۔عرض کی:حُضُور ! وہاں توگنہگاروں کو گھسیٹ کر دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔فرمایا:جب تم *اللہ پاک کی روزی کھانے سے بھی باز نہیں آسکتے* اُس کے مُلک سے باہَر بھی نہیں نکل سکتے* اُس سے نظر بھی نہیں بچا سکتے* لمحہ بھر کے لیے موت کو بھی ٹال نہیں سکتے* مُنکَر نکِیر کو بھی نہیں ہٹا سکتے * اور اگر جہنّم کا حکم سنادیا جائے تواُسے بھی نہیں ٹال سکتے تو پھر گناہ کرنا ہی کیوں نہیں چھوڑ دیتے !

 اُس شخص پر حضرت ابراھیم بن اَدہم  رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ  کے تجویز کردہ گُناہوں کے عِلاج کے ان 6نصیحت آموز مَدَنی پھولوں کی خوشبوؤں نے بَہُت اثر کیا،زار و قِطار روتے ہوئے اُس نے اپنے تمام گناہوں سے سچّی توبہ کرلی اور مرتے دم تک توبہ پر قائم رہا۔([1])

سُبْحٰنَ اللہ!مَعْلُوم ہوا؛ تَذَکُّر یعنی اللہ پاک کے اِنْعامات کو یاد کرنا، گُنَاہوں کی سزا کے طور پر اس کی گرفت پر غور کرنا شیطانی وَسْوَسوں سے بچنے کا بہترین وَظیفہ ہے۔ لہٰذا ماہِ رمضان کے بعد اب ہم پکّی نِیّت کریں، اپنی زندگی میں یہ وَصْف اپنا لیں کہ جب بھی شیطان وسوسہ ڈالے، وسوسوں کی بوچھاڑ کر دے، گُنَاہ کروانے پر تُل ہی جائے، اس وقت اللہ پاک کی یاد کریں، جنّت، دوزخ کو یاد کریں، اللہ پاک کے اِنْعامات کو یاد کر کے ہم خُود


 

 



[1]...تذکرۃ الاولیا، با یازدہم، صفحہ:100-101۔