Ramazan Ke Bad Ki Zindagi

Book Name:Ramazan Ke Bad Ki Zindagi

روزی کھاؤ! اُسی کی نافرمانی بھی کرو!۔

(2): پھر دوسری نصیحت فرمائی:جب بھی گناہ کا ارادہ ہو جائے تو اللہ پاک کے مُلک سے باہَر نکل جاؤ! عرض کی: حُضُور! یہ بھی کیسے ہو سکتا ہے؟ مشرق، مغرب، شمال، جنوب، جدھر جاؤں، جِدھر جاؤں اُدھر اللہ پاک ہی کا مُلک پاؤں،اللہ پاک کے مُلک سے باہَر کس طرح جاؤں! فرمایا:دیکھو !کتنی بُری بات ہے کہ اللہ پاک کے مُلک میں بھی رہواور پھر اُس کی نافرمانی بھی کرو۔ (3): تیسری نصیحت یہ ارشاد فرمائی:جب پختہ ارادہ ہو جائے کہ بس اب گناہ کر ہی ڈالنا ہے تو اپنے آپ کو اتنا چُھپالو کہ اللہ پاک دیکھ نہ سکے۔عَرض کی:حُضُور ! یہ کیونکر ممکِن ہے کہ اللہ پاک مجھے دیکھ نہ سکے،وہ تو دلوں کے اَحوال سے بھی باخبر ہے۔فرمایا:دیکھو ! کتنی بُری بات ہے کہ تم اللہ پاک کو سَمِیْعٌ وَّ بَصِیْرٌ(یعنی سننے والا اوردیکھنے والا)بھی مانتے ہو اور یہ بھی یقین کے ساتھ کہہ رہے ہو کہ ہر لمحے مجھےاللہ پاک دیکھ رہا ہے مگر پھر بھی گناہ کیے جا رہے ہو۔(4): چوتھی نصیحت یہ ارشاد فرمائی:جب مَلَکُ الْمَوْت عزرائیل علیہ السَّلام تمہاری رُوح قبض کرنے کے لیے تشریف لائیں تو اُن سے کہہ دینا،تھوڑی سی مُہلَت دے دیجیے تا کہ میں توبہ کرلوں۔عرض کی:حُضُور ! میری کیا اَوقات اور میری سُنے کون ؟ موت کا وقت مقرّرہے اور مجھے ایک لمحہ بھی مُہلَت نہیں مل سکے گی فورًا میری رُوح قبض کر لی جائے گی۔فرمایا:جب تم یہ جانتے ہو کہ میں بے اختیار ہوں اور توبہ کی مُہْلَت حاصل نہیں کر سکتا تو فی الحال ملے ہوئے لمحات کو غنیمت جانتے ہوئے مَلَکُ الْمَوْت علیہ السَّلام کی تشریف آوَری سے پہلے پہلے توبہ کیوں نہیں کر لیتے؟ (5): پھر آپ  رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ  نے پا نچویں نصیحت یہ فرمائی:جب تمہاری موت واقِع ہو جائے اور قَبْر