Ramazan Ke Bad Ki Zindagi

Book Name:Ramazan Ke Bad Ki Zindagi

تھے*ان کے آنسوؤں سے داڑھی تَر ہو جاتی تھی*رُخساروں پر آنسوؤں سے لکیریں پڑ جاتی تھیں*بےہوش ہو جایا کرتے تھے۔ یہ بہت اعلیٰ درجے کی کیفیات ہیں، اللہ پاک ہمیں ان نیک لوگوں کا صدقہ نصیب فرمائے۔ کم از کم اتنا خوفِ خُدا تو ہر مسلمان کے اندر ہونا چاہئے کہ جب ہمارے دِل میں گُنَاہ کا خیال آئے، شیطان ہمیں گُنَاہ کی دعوت دے تو ہمیں اللہ پاک کے حُضُور کھڑے ہونا یاد آجائے، تَصَوُّر بندھ جائے کہ وہ قیامت کا ہولناک دِن...!!*جب سُورج آگ برسا رہا ہو گا*زمین تانبے کی ہو گی*دہک رہی ہو گی*لوگ اپنے ہی پسینے میں ڈبکیاں لے رہے ہوں گے*اگلے پچھلے سب حاضِر ہوں گے*سامنا قہر کا ہو گا، رَبِّ کریم اس دِن ایسا غضب فرمائے گا کہ ایسا غضب اس نے پہلے کبھی نہ فرمایا، ایسے ہولناک مرحلے پر مجھے میرا نام لے کر پُکارا جائے گا: اے فُلاں بن فُلاں! رَبّ کے حُضُور حاضِر ہو...!!

اُس وقت ہم ڈریں گے، جھجکیں گے، شرم سے مُنہ چھپائیں گے مگر آہ! اُس دِن چھپنے کی جگہ کہاں ہو گی...!! فرشتے کھینچ کر رَبّ کے حُضُور حاضِر کر دیں گے۔ پِھر ہم سے ہمارے اعمال کا حِسَاب لیا جائے گا۔ پوچھا جائے گا: اے فُلاں!*کیا تجھے زندگی نہیں بخشی گئی تھی؟*کیا تجھے نعمتیں نہیں عطا کی گئی تھیں؟*کیا تجھ تک حق کا پیغام نہیں پہنچایا گیا تھا؟ پِھر تُو نے گُنَاہ کیوں کیا؟ اس وقت ہمارے پاس کیا جواب ہو گا...؟ آہ! ہم شرم سے پانی پانی ہو رہے ہوں گے، کوئی بات بن نہیں پائے گی...!! آہ! اگر اس وقت رَبّ کریم نے غضب فرمایا، میرے گُنَاہوں پر میری پکڑ فرما لی اور مجھے جہنّم میں ڈال دینے کا حکم جاری ہو گیا تو میرا کیا بنے گا...؟؟

گر تُو ناراض ہوا میری ہلاکت ہوگی         ہائے! میں نارِ جہنّم میں جلوں گا یاربّ!