Marhoom Walidain Ke Huqooq

Book Name:Marhoom Walidain Ke Huqooq

ہم اپنے فوت شُدگان کے لیے  صدقہ کرتے ہیں، ان کی طرف سے حج کرتے ہیں، کیا یہ انہیں پہنچتا ہے؟ فرمایا: ہاں! یہ انہیں پہنچتا ہے اور وہ اس (ایصالِ ثواب) پر اسی طرح خوش ہوتے ہیں، جیسے تم (زندہ لوگ) تحفہ ملنے پر خوش ہوتے ہو۔([1])

سُبْحٰنَ اللہ!پیارے اسلامی بھائیو! جب ہمیں کوئی تحفہ دیتا ہے تو ہمیں کتنی خوشی ہوتی ہے، پیارے نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  نے فرمایا: ایسی ہی خوشی فوت شُدہ کواس وقت ہوتی ہے، جب انہیں ایصالِ ثواب کا تحفہ پیش کیا جاتا ہے۔ یہ کتنی پیاری بات ہے، اب ذرا تَصَوُّر باندھیے! *ہم صحابۂ کرام  رَضِیَ اللہ عنہم کو ایصالِ ثواب کے نذرانے بھیجتے ہیں *اَوْلیائے کرام کو اِیصالِ ثواب کرتے ہیں *حُضُور غوثِ پاک   رحمۃُ اللہ علیہ   کی گیارہویں کرتے ہیں*خواجہ حُضُور   رحمۃُ اللہ علیہ  کی نیاز بنا کرلوگوں میں تقسیم کر کےاس کا ثواب انہیں پہنچاتے ہیں*اعلیٰ حضرت   رحمۃُ اللہ علیہ  کی خِدْمت میں ثواب پیش کرتے ہیں، اس پر یہ بزرگ کتنے خوش ہوتے ہوں گے۔ اوریہ ہمار اِیْمان اور یقین ہے کہ جس سے *صحابۂ کرام*اَہْلِ بیتِ اطہار*اَوْلیائے کرام خُوش ہو جائیں،اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم!اس کے وارے ہی نیارے ہو جائیں گے۔

صحابۂ کرام اور مرحُوْمِیْن کے ساتھ رحمدِلی

پیارے اسلامی بھائیو! اِیصالِ ثواب صحابۂ کرام  رَضِیَ اللہ عنہم کے معمولات میں شامِل تھا۔ جب کوئی دُنیا سے جاتا تو صحابۂ کرام  رَضِیَ اللہ عنہم مختلف طریقوں سے اسے اِیْصالِ ثواب کیا کرتے تھے۔ چنانچہ روایات میں ہے: *اَنْصار صحابہ کا یہ معمول تھا کہ جب کوئی فوت


 

 



[1]... عمدۃ القاری، کتاب الوضو، جلد:2، صفحہ:599، زیرِ حدیث:216۔