Book Name:Marhoom Walidain Ke Huqooq
عَلَیْهِ وَ قَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَیْكُمْ (پارہ:8، سورۂ انعام:119)
میں سے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے حالانکہ وہ تمہارے لیے وہ چیزیں تفصیل سے بیان کر چکا ہے جو اس نے تم پر حرام کی ہیں۔
یہاں قرآنِ کریم کا اُسْلُوب دیکھیے! فرمایا گیا: تمہیں کیا ہے...؟ کیا وجہ ہے؟ کونسی ایسی غرض ہے کہ جن چیزوں پر اللہ پاک کا نام لیا جائے، تم اُنہیں نہیں کھاتے۔ جو حرام چیزیں ہیں، وہ الگ سے بتا دی گئی ہیں۔ ان سے ضرور بچو، وہ نہ کھاؤ! مگر جو حلال چیزیں ہیں، اُن پر اللہ پاک کا نام لے لیا جائے تو اس سے وہ حرام نہیں ہو جائیں گی، حلال ہی رہیں گی، انہیں ضرور کھایا کرو!
اب دیکھیے! *کھانا*پانی*پھل*بکری*گائے یہ سب حلال چیزیں ہیں، *گیارہویں شریف کا خَتْم ہو*قُل شریف کا ختم ہو*یا اللہ والوں کے نام پر قربانیاں کی جائیں، ان پر اللہ پاک کا ہی نام پڑھا جاتا ہے، قرآنی آیات کی تِلاوت ہوتی ہے، بالخصوص جانور کو ذَبَح کرتے وقت اللہ پاک کا ہی نام لیا جاتا ہے، پتا چلا؛ اللہ پاک کا نام لینے سے یہ چیزیں حرام نہیں ہو جائیں گی بلکہ ان میں مزید برکت آجائے گی، لہٰذا ان کھانوں کو بطور برکت کھا لینا چاہیے۔
(2):کیا فوت شدگان کو ثواب پہنچتا ہے؟
حضرت سعد بن عُبَادہ رَضِیَ اللہ عنہ والی حدیثِ پاک سے دوسری بات یہ مَعْلُوم ہوئی کہ ہم اپنے فوت شُدْگان کے لیے نیکی کے کام کریں، اس کا ثواب اُن کو پہنچائیں تو اس کا فائدہ انہیں ضرور پہنچتا ہے۔ صحابئ رسول حضرت اَنس بن مالِک رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں:میں نے عرض کیا: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں...!!