Book Name:Marhoom Walidain Ke Huqooq
آج کل کا دَور تو نہیں تھا کہ کال کی جاتی، حضرت سعد رَضِیَ اللہ عنہ جہاز، بَس یا ٹرین پکڑ کر جلدی سے واپس پہنچ جاتے، اس وقت پیدل یا گھوڑوں وغیرہ پر سفر ہوتا تھا، ایک سفر میں کئی کئی مہینے لگ جاتے تھے۔ چنانچہ آپ سَفَر پر تھے، اَمِّی جان کا انتقال ہوا، آپ کو خبر نہ بجھوائی جا سکی۔ جب آپ سَفَر سے واپس آئے، اَمِّی جان کے انتقال کی خبر ملی تو بہت دُکھی ہوئے۔
آپ خُود اندازہ لگائیے! بیٹے کو ماں کے جنازے میں شرکت کا بھی موقع نصیب نہ ہو تو کس قدر دُکھ اور تکلیف ہو گی، کتنی حسرتیں دِل میں رہ جائیں گی۔ بہرحال! قدرت کا جو کرنا تھا، وہ ہو گیا۔ اب حضرت سَعْد رَضِیَ اللہ عنہ اسی دُکھ کی کیفیت میں پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی خِدْمت میں حاضِر ہوئے، عرض کیا: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! میں سَفَر پر تھا، اَمِّی جان کا انتقال ہو گیا، میں اگر ان کی جانِب سے صدقہ کروں تو کیا اُنہیں فائدہ پہنچے گا؟ فرمایا: ہاں! انہیں فائدہ پہنچے گا۔([1]) دوسری روایت میں ہے: آپ نے پوچھا: فَاَیُّ الصَّدَقَۃِ اَفْضَلُ؟ یعنی یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! کونسا صدقہ زیادہ افضل ہے؟ فرمایا: اَلْمَاءُ پانی کا صدقہ زیادہ افضل ہے۔ حضرت سعد بن عبادہ رَضِیَ اللہ عنہ نے اپنی اَمِّی جان کے اِیْصالِ ثواب کے لیے ایک کنواں کھدوا دیا۔ پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے اس کنویں کا نام بئرِ اُمِّ سَعْد(یعنی سعد کی ماں کا کنواں) رکھا۔([2])
بخش دے بےحساب اے خُدا بخش دے تجھ کو مَحْبُوب کا واسطہ یاخُدا!
میرے ماں باپ کی، آل و اَحْباب کی مغفرت کر برائے رضا یاخُدا!
پیارے اسلامی بھائیو! حدیثِ پاک جو ہم نے سُنی، اس سے ہمیں بہت سارے سبق