Book Name:Marhoom Walidain Ke Huqooq
میری سُنّت سے محبّت کی اس نے مجھ سے محبّت کی اور جس نے مجھ سے محبّت کی وہ جنّت میں میرے ساتھ ہو گا۔([1])
سینہ تیری سُنّت کا مدینہ بنے آقا! جنت میں پڑوسی مجھے تم اپنا بنانا
فرمانِ آخری نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم :تمام سرموں میں بہتر سرمہ اِثمد ہے کہ یہ نگاہ کو روشن کرتا اور پلکیں اُگاتا ہے۔([2])
اے عاشقانِ رسول ! پتھر کا سرمہ استعمال کرنے میں حرج نہیں ہےاور سیاہ سرمہ یا کَاجَل بقصدِ زینت(یعنی خوبصورتی کی نیت سے)مَرد کو لگا نا مکروہ ہےاور زینت مقصود نہ ہو تو کراہت نہیں، سرمہ رات کو سوتے وقت استعمال کرنا سنّت ہے *سرمہ استعمال کرنے کے 3منقول طریقوں کا خلاصہ پیشِ خدمت ہے: (1):کبھی دونوں آنکھوں میں 3، 3سلائیاں (2):کبھی سیدھی آنکھ میں 3سلائیاں اور اُلٹی آنکھ میں 2 (3):تو کبھی دونوں آنکھوں میں 2،2اور پھر آخر میں ایک سلائی کو سرمے والی کر کے اُسی کو باری باری دونوں آنکھوں میں لگائیےاس طرح کرنے سے اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم!تینوں پر عمل ہوتا رہے گا۔اے عاشقانِ رسول !تکریم کے جتنے بھی کام ہوتے سب ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم سیدھی جانب سے شروع کیا کرتے، لہٰذا پہلے سیدھی آنکھ میں سرمہ لگائیے پھر اُلٹی میں۔([3])
عجب نہیں کہ لکھا لوح کا نظر آئے! جو نقشِ پا کا لگاؤں غبار آنکھوں میں