Book Name:Marhoom Walidain Ke Huqooq
روتے رہتے ہیں، خُدارا! غور فرمائیے! آہ! دُنیا میں تو ماں باپ کا پُوری طرح حق ادا نہ کر پائے، اب کم از کم قبر میں تو انہیں سکون پہنچائیں، خُوب نیکیاں کریں، گُنَاہوں سے بچیں، ہم بھرپُور کوشش کریں کہ ہر جمعہ کو جب ماں باپ کے سامنے میرے اعمال پیش ہوں تو اعمال نامے میں ایک بھی گُنَاہ موجود نہ ہو...!!
اللہ پاک ہمیں توفیق نصیب فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ۔
نماز روزوں کا فِدْیَہ ادا کیجیے!
پیارے اسلامی بھائیو! مرحُوْم والِدَین کے اور بھی حقوق ہیں جو اَوْلاد پر لازِم رہتے ہیں، ان حقوق کی تفصیلی معلومات کے لیے مکتبۃ المدینہ کا رسالہ مرحُوم والدین کے حقوقپڑھ لیجیے!
آخر میں ایک بات مزید عرض کرنی ہے، بعض دفعہ اَمِّی اَبُّو دُنیا سے چلے جاتے ہیں تو اُن کے ذِمّے نمازیں اور روزے باقی ہوتے ہیں، یعنی کچھ نمازیں چھوٹی ہوتی ہیں، کچھ روزے چھوٹے ہوتے ہیں، یہ مرحُوْمِیْن کے ساتھ بہت بہترین نیکی ہے کہ ہم اُن کی نمازوں اور روزوں کا فِدْیَہ ادا کر دیں۔ ہونہار اَوْلاد کو چاہیے کہ یہ نیکی لازمی کر لیں، کیا خبر! اَمِّی ابو اسی سبب سے جنّت میں داخلے سے روکے گئے ہوں، کیا خبر! ہم فِدْیَہ ادا کریں اور ان کی بخشش ہو جائے۔ نماز، روزے کا فِدْیَہ کتنا ہو تا ہے؟ کیسے دیتے ہیں؟ اس میں تفصیل ہے، دار الافتاء اہلسنت میں مفتیانِ کرام سے رابطہ فرما لیں گے تو اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! تفصیلی معلومات مِل جائیں گی۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد