Book Name:Marhoom Walidain Ke Huqooq
کے چہرے کو پیار سے دیکھنا مقبول حج کا ثواب ہے۔ ([1])جن کے والِدَین دُنیا سے تشریف لے جائیں، شاید اُن کا سب سے بڑا نقصان یہی ہوتا ہے کہ ان سے مقبول حج کا موقع چھن جاتا ہے۔ لیکن قربان جائیے! پیارے محبوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم بہت ہی سخی ہیں، آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے کسی کو بھی مَحْرُوم نہیں چھوڑا ہے، جن کے والدین دُنیا سے چلے جائیں، ان کے لیے بھی مقبول حج کا ثواب پانے کا موقع ہے، پیارے محبوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: ثواب کی نیّت کے ساتھ والدین کی قبر کی زیارت کرنے والے کو مقبول حج کا ثواب ملے گا ۔([2])
سُبْحٰنَ اللہ!پتا چلا؛ ماں باپ دُنیا سے چلے گئے، مقبول حج کا ثواب کمانے کا موقع اب بھی ہاتھ میں ہے، چاہیں تو روزانہ قبرستان حاضِری دیجیے! روزانہ ماں باپ کی زیارت کے لیے جائیے! اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! جتنی بار جائیں گے، اتنے ہی مقبول حج کا ثواب نصیب ہو گا۔
اب یہاں ایک اور مسئلہ ہے، ماں باپ زِندہ ہو، بیٹا ان کی خِدْمت میں حاضِر ہو، ان کے چہرے کی زیارت کرے، اس سے مقبول حج کا ثواب تو ملتا ہی ہے، ساتھ ہی ساتھ ماں باپ کو دیکھنے سے سکون بھی تَو ملتا ہے، تھکاوٹ بھی تو اُترتی ہے، ماں باپ کے ساتھ بات کر کے، ان کے دِل کی سُن کر، اپنے دِل کی سُنا کر غم بھی تو ہلکے ہو جاتے ہیں، اب قبر کی زیارت کر کے مقبول حج کا ثواب تو اگرچہ مل جائے گا مگر یہ جو اُوپَر کے فائدے ہیں، دِل کو سکون ملنا، غم ہلکے ہونا، یہ تو اب میسر نہیں آئیں گے ، قبر پر جائیں گے، وہاں مٹّی نظر آئے گی، اَمِّی جان، اَبُّو جان کا چمکتا ہوا، مسکراتا ہوا چہرہ تو نظر نہیں آئے گا۔