Book Name:Marhoom Walidain Ke Huqooq
کے برابر ہو جائے گا۔ یہاں ایک مسئلہ ذِہن میں رکھیے! فرض حج ہو تو وہ اپنی طرف سے ہی کرنا ہوتا ہے، ہاں! فرض حج کا ثواب ماں باپ کو پہنچا سکتے ہیں۔ اِس کے عِلاوہ نفل حج کرنے کی سَعَادت ملے تو وہ اپنی بجائے ماں باپ کی جانِب سے کیجیے! اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! اِس حج کا ثواب ماں باپ کو بھی ملے گا اور ساتھ ہی ساتھ آپ کو 10 حج کا ثواب نصیب ہو جائے گا۔ اگر ماں باپ میں سے کوئی اس حال میں فوت ہوگیا کہ ان پر حج فرض ہو چکنے کے باوُجُود وہ نہ کرپائے تھے تو اب اولاد اُن کی طرف سے حج بدل کر سکتی ہے۔حجِ بدلکے تفصیلی اَحکام جاننے کے لیے امیر اہلسنّت مولانا محمد الیاس عطارقادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی کتاب رَفِیقُ الْحَرَمَین صفحہ:208تا 214 کا مطالعہ فرمائیں۔
پیارے اسلامی بھائیو! مرحُوم ماں باپ کے حقوق میں سے ایک اَہَم حق یہ بھی ہے کہ بیٹا ماں باپ کی قبر پر حاضِری دیتا رہا کرے۔ پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: جو اپنے ماں باپ دونوں یا ایک کی قبر پرہرجمعہ کے دن زیارت کوحاضرہواﷲ پاک اس کے گناہ بخش دے اور ماں باپ کے ساتھ اچھابرتاؤ کرنے والا لکھاجائے۔ ([1])
ایک حدیثِ پاک میں فرمایا: جو شخص جمعہ والے دن اپنے والِدَین یاان میں سے کسی ایک کی قبر کی زیارت کرے اور اس کے پاس سورۂ یٰس پڑھے بخش دیا جائےگا۔([2])
پیارے اسلامی بھائیو! آپ نے ایک حدیث شریف بہت مرتبہ سُنی ہو گی کہ ماں باپ