Book Name:Marhoom Walidain Ke Huqooq
سُبْحٰنَ اللہ!مَعْلُوم ہوا؛ صِرْف خَتْمِ قُل شریف، دَسْواں، چالیسواں وغیرہ ہی نہیں بلکہ ماں باپ کے حقوق میں سے ہے کہ اَوْلاد اپنی ہر ہر نیکی میں انہیں شامِل کرے، جو بھی نیکی کرے، اس کا ثواب ماں باپ کو پہنچائے اور نفل نیکیاں کر کر کے اُنہیں ثواب پہنچائے۔
پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: جو اپنے والدین کی طرف سے حج کرے، یا ان کا قرض اُتارے، اللہ پاک روزِ قیامت اُسے نیک لوگوں کے ساتھ اُٹھائے گا۔ ([1])
ایک روایت میں فرمایا: انسان جب اپنے والدین کی طرف سے حج کرتاہے، وہ حج اِس کی اور اِس کے والدین کی طرف سے قبول کیاجاتا ہے اور ماں باپ کی روحیں آسمان میں اِس سے خُوش ہوتی ہیں اور یہ شخص اللہ پاک کے نزدیک ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا لکھا جاتا ہے۔ ([2])
ایک اور بہت ایمان افروز حدیثِ پاک سنیے! محبوبِ ذیشان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: جو اپنے ماں باپ کی طرف سے حج کرے، اُن کی طرف سے حج اداہوجائے گا اور اسے 10حج کا ثواب زیادہ ملے گا۔ ([3])
سُبْحٰنَ اللہ! کتنی زبردست فضیلت ہے۔ بندہ ماں باپ کی جانِب سے حج ادا کرے، اِس کا ثواب اُنہیں بھی ملے گا اور خُود اِس کا یہ حج صِرْف ایک حج نہیں رہ جائے گا بلکہ 10 حج