Book Name:Marhoom Walidain Ke Huqooq
اِس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ ماں باپ دُنیا سے چلے گئے تو اب ہم نے سال بہ سال ہی اُنہیں یاد کرنا ہے۔حدیثِ پاک میں ہے، رسولِ ذیشان، مکی مدنی سلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: جب تم سے کوئی شخص کچھ نفل خیرات کرے تو چاہیے کہ اسے اپنے ماں باپ کی طرف سے کرے کہ اِس کا ثواب اُنہیں ملے گا اور کرنے والے کے ثواب میں سے کچھ نہ گھٹے گا۔([1])
ماں باپ کو اِیْصالِ ثواب کیجیے!
ایک حدیثِ پاک میں ہے: ایک مرتبہ ایک صحابی رَضِیَ اللہ عنہ حاضِر ہوئے، عرض کیا: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! میں اپنے ماں باپ کے ساتھ اُن کی زندگی میں نیک سلوک کرتا تھا، اب وہ وفات پا گئے، اب اُن کے ساتھ نیک سلوک کا کیا طریقہ ہے؟ آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا:
اِنَّ مِنَ الْبِرِّ بَعْدَ الْمَوْتِ اَنْ تُصَلِّیَ لَہُمَا مَعَ صَلَوٰتِکَ وَ تَصُوْمَ لَہُمَا مَعَ صِیَامِکَ
ترجمہ: بیشک مرنے کے بعد ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک یہ ہے کہ تم اپنی نماز کے ساتھ ان کے لیے بھی نماز پڑھو، اپنے روزے کے ساتھ اُن کے لیے بھی روزے رکھو! ([2])
اس حدیثِ پاک کے 2معنیٰ ہو سکتے ہیں: (1): جب بھی تم نماز پڑھو! روزہ رکھو تو اِس کا ثواب اپنے ماں باپ کو پہنچا دیا کرو! (2): دوسرا معنیٰ یہ ہو سکتا ہے کہ اُن کی طرف سے اُن کے نماز روزوں کا فدیہ دے دو کہ یہ بھی اُن کی وفات کے بعد اُن کے ساتھ بھلائی کی ایک صورت ہے۔