Book Name:Marhoom Walidain Ke Huqooq
سُبْحٰنَ اللہ!ہمیں بھی چاہیے کہ والِد صاحِب اگر دُنیا سے چلے جائیں تو اُن کے دوست احباب کو اپنے والِد کی جگہ سمجھیں اور اُن کی عزّت بجا لایا کریں۔
والِدَین کے لیے دُعائے بخشش کرنا
پیارے اسلامی بھائیو! (4):چوتھی چیز جو بیان ہوئی وہ ہے والدین کے لیے بخشش کی دُعا کرنا۔حدیثِ پاک میں ارشاد ہوا:
اِسْتِغْفَارُ الْوَلَدِ لِاَبِیْہِ مِنْ م بَعْدِ الْمَوْتِ مِنَ الْبِرِّ
ترجمہ: بیٹے کا اپنے والِد کے لیے دُعائے مغفرت کرنا اس کی موت کے بعد کا نیک سلوک ہے۔([1])
اِس حدیثِ پاک سے مَعْلُوم ہوا؛ مرحُوم والِدَین کے حقوق میں سے ہے کہ بندہ اپنے والِدَین کے لیے مغفرت کی دُعا کرتا رہے۔
ہم نماز میں دُعا پڑھتے ہیں نا؛
رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَابُ۠(۴۱) (پارہ:13، سورۂ ابراہیم:41)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اے ہمارے ربّ! مجھے اور میرے ماں باپ کو اور سب مسلمانوں کو بخش دے جس دن حساب قائم ہوگا۔
یہ حضرت ابراہیم علیہ السَّلام کی دُعا ہے، آپ نے اپنے والدینِ کریمین کے لیے بخشش کی دُعا مانگی تھی، پتا چلا؛ مرحُوم والِدَین کے لیے بخشش کی دُعا کرنا حضرت ابراہیم علیہ السَّلام کی سُنّت ہے۔