Book Name:Marhoom Walidain Ke Huqooq
باپ کا کوئی ایسا روَیَّہ رہا ہو، مثلاً اَبُّو جان اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ ناراض رہے ہوں، اَمِّی جان کی اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ نہ بن پائی ہو تو اَوْلاد کو چاہیے کہ اس جھگڑے کو طُول نہ دے بلکہ اپنے ان عزیز رشتے داروں کے ساتھ جلد از جلد صلح کر کے ماں باپ کو قبر میں راحت پہنچائے۔ اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
وَ الصُّلْحُ خَیْرٌؕ- (پارہ:5، سورۂ نساء:128)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: اور صلح بہترہے۔
یاد رکھیے! سگے بہن بھائیوں کے ساتھ مرنا جینا ختم کرنا قطع تعلقی ہے اور قطع تعلقی حرام ہے۔ اللہ پاک ہمیں ایسے لڑائی جھگڑوں سے مَحْفُوظ فرمائے۔
والِد کے دوست کے ساتھ اچھا سلوک
(3): ماں باپ کے دوستوں کی عزّت بجا لانا، یہ بھی مرحُوم والدین کے حقوق میں سے ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہ عنہ صحابئ رسول ہیں، ایک مرتبہ آپ کہیں سے گزر رہے تھے، آپ کی ایک دیہاتی کے ساتھ مُلاقات ہوئی، جیسے ہی آپ نے اُسے دیکھا تو اُس کے ساتھ نیک سلوک کیا، جس سُواری پر آپ سُوار تھے، وہ بھی اُسے دے دی، اپنا عمامہ شریف اتار کر وہ بھی اُسے دے دیا۔ آپ کے ساتھ جو لوگ تھے، اُنہوں نے عرض کیا: عالی جاہ! اسے ایک ہی دِرْہَم دے دینا بھی تَو کافِی تھا۔ فرمایا:(یہ شخص میرے والِد حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ کا دوست تھا اور) رسولِ ذیشان، مکی مدنی سلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا:
اِحْفِظْ وُدَّ اَبِیْک لَا تَقْطَعْہُ فَیُطْفِئُ اللہ نُوْرَکَ
ترجمہ: اپنے والِد کی محبّت کی حفاظت کرو! اسے مت توڑو ورنہ اللہ پاک تمہارا نُور بجھا دے گا۔([1])