Book Name:Marhoom Walidain Ke Huqooq
کمائی سے جن بچوں کو پالا ہوتا ہے، وہ اِس لائق ہی نہیں ہوتے کہ نمازِ جنازہ پڑھا سکیں، کاش! ایسا ہو، ہر بیٹا اتنا عِلْمِ دِین تَو سیکھ ہی لے کہ اپنے ماں باپ کے آخری حقوق ادا کر پائے۔
(2):ماں باپ نے کسی کے ساتھ کوئی وعدہ کیا ہو تو اَوْلاد کو چاہیے کہ اُن وعدوں کو نبھائے۔ حدیث شریف میں ہے: جو شخص اپنے ماں باپ کے بعد * اُن کی قسم سچی کرے *اُن کا قرض ادا کرے * اور کسی کے ماں باپ کو بُرا کہہ کر اُنہیں بُرا نہ کہلوائے، وہ والدین کے ساتھ نیکی کرنے والا لکھا جاتا ہے، اگرچہ اُن کی زندگی میں نافرمان ہی کیوں نہ ہواور جو * اُن کی قسم پُوری نہ کرے* اُن کا قرض نہ اُتارے*دوسروں کے والدین کو بُرا کہہ کر اُنہیں بُرا کہلوائے، وہ نافرمان لکھا جاتا ہے، اگرچہ اُن کی زندگی میں نیک سلوک کرنے والا ہی کیوں نہ ہو۔([1])
پیارے اسلامی بھائیو! دیکھیے! کتنی سبق آموز روایت ہے، جو * ماں باپ کی قسمیں پُوری نہیں کرتا* اُن کا قرض نہیں اتارتا اور ایسے کام کرتا ہے کہ لوگ اس کے والدین کو بُرا کہیں تو ایسا شخص چاہے ماں باپ کا فرمانبردار ہی کیوں نہ رہا ہو، اب نافرمان ہو جائے گا۔
کیا جھگڑے بھی جاری رکھے جائیں گے؟
یہاں ایک بات عرض کروں گا، آج کل چونکہ عِلْمِ دِین کی کافِی کمی ہے، بعض دفعہ آپس کی دُنیوی لڑائی جھگڑے بہت بڑھ جاتے ہیں، یہاں تک کبھی کبھی لوگ اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ مرنا جینا ختم کر بیٹھتے ہیں، پِھر یہ سلسلہ نسل دَرْ نسل چلتا چلا جاتا ہے۔ یہ بہت ہی غلط بلکہ بعض صُورتوں میں گُنَاہوں بھرا مُعَاملہ ہو جاتا ہے۔ اگر خدانخواستہ ماں