Book Name:Marhoom Walidain Ke Huqooq
مزاج جو ہمارے ہاں رائج ہے، جب ماں باپ دونوں یا ان میں سے کوئی ایک دُنیا سے چلا جائے تو اَوْلاد کی جانِب سے اپنی محبتوں کا اِظْہار یُوں کرتے ہیں کہ ان کی قبر پکی کروا دیتے ہیں، قبر کے اُوپَر ماربَل لگوا دیں گے، خوبصُورت قبر بنوا دیں گے۔
قبر پکّی کروانا جائِز یا نہیں؟ یہ ایک الگ مسئلہ ہے، اس کی تفصیل دار الافتاء اہلسنت سے پوچھنی چاہیےلیکن ہم نے اگر اپنے ماں باپ سے محبتوں کا اِظْہار کرنا بلکہ لازمی کرنا چاہیے، اس کا کیا طریقہ ہو گا؟ وہ کون کون سے حقوق ہیں جو ہم پر والدین کی وفات کے بعد بھی لازِم رہتے ہیں؟ آئیے! اِس تَعَلُّق سے کچھ احادِیثِ کریمہ سنتے ہیں:
ایک مرتبہ ایک انصاری صحابی رَضِیَ اللہ عنہ بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہوئے، عرض کیا: یارسول اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! ماں باپ کے انتقال کے بعد بھی کوئی طریقہ ان کے ساتھ نیک سلوک کا باقی رہ جاتا ہے؟ فرمایا: نَعَمْ اَرْبَعَةُ اَشْيَاءَ الصَّلَاةُ عَلَيْهِمَا وَالِاسْتِغْفَارُ لَهُمَا وَاِنْفَاذُ عَهْدِهِمَا مِنْ بَعْدِ مَوْتِهِمَا وَاِكْرَامُ صَدِيقِهِمَا ہاں! چار حقوق ماں باپ کی وفات کے بعد بھی لازم ہیں (1): ان پر نمازِ جنازہ ادا کرنا (2):ان کے لیے مغفرت کی دُعائیں کرنا (3):ان کے وعدے نبھانا (مثلاً ماں باپ نے کسی کے ساتھ کچھ وعدہ کیا ہو تو اسے پُورا کرنا) (4):ان کے دوستوں کی عزّت بجا لانا۔([1])
یہ 4حقوق ہیں: (1):نمازِ جنازہ ادا کرنا۔ ویسے اچھا تو یہ ہے کہ بیٹا خُود اپنی اَمِّی اور اَبُّو کا جنازہ پڑھائے مگر افسوس! آج کل حالات بہت عجیب ہیں، ماں باپ نے اپنے خُون پسینے کی