Marhoom Walidain Ke Huqooq

Book Name:Marhoom Walidain Ke Huqooq

وہ ظہوریؔ یار میرا، وہی غم گُسار میرا      میری قبر پر جو آ کر نعتِ نبی سُنائے

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                               صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد

(3):والدین کے حقوق پورے نہیں ہو سکتے

پیارے اسلامی بھائیو!  حضرت سعد  رَضِیَ اللہ عنہ  والی حدیثِ پاک سے تیسری بات یہ مَعْلُوم  ہوئی کہ والِدَین دونوں یا ایک دُنیا سے چلے جائیں تو اب بھی ان کے ساتھ نیکی اور اچھا سلوک جاری رکھا جائے گا۔

یہ بات ہمیشہ یاد رکھیے! والِدَین کے حقوق بہت زیادہ ہیں۔ اتنے زیادہ ہیں کہ ہم کسی طرح بھی ان کے حقوق مکمل پُورے کر ہی نہیں سکتے۔ ایک مرتبہ اعلیٰ حضرت  رحمۃُ اللہ علیہ  کی خِدْمت میں سُوال ہوا: ماں باپ کے حقوق کتنے ہیں؟ (شاید سائِل چاہتا ہو گا کہ مجھے حقوق گِن کر بتا دئیے جائیں تاکہ میں اُنہیں پورا کر سکوں) ۔ سیدی اعلیٰ حضرت  رحمۃُ اللہ علیہ  نے کمال جواب دیا، فرمایا: والدین کے حُقوق اتنے ہیں کہ پُورے کرنا ناممکن ہے، یہاں تک کہ اگر والدین وفات پا جائیں، اگر بیٹا اُنہیں دوبارہ زندہ کرنے کی طاقت رکھتا ہو تو دوبارہ زندہ کرے، یہ بھی اُن کے حقوق میں شامِل ہے۔([1])

اللہ اکبر! پتا چلا؛ ماں باپ کے حقوق کسی طرح پُورے کئے ہی نہیں جا سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ ماں باپ اگر دُنیا سے چلے جائیں، وفات پا جائیں، اس کے بعد بھی اُن کے حقوق ہم پر لازِم رہتے ہیں۔

مرحُوم والدین کے حقوق

ہمارے ہاں عموماً لوگوں کو ماں باپ سے محبّت تو اَلحمدُ للہ! ہوتی ہی ہے۔ لیکن  ایک غلط


 

 



[1]...فتاوٰی رضویہ، جلد:14، صفحہ:370 خلاصۃً۔